بینگلور: بھاری پولیس دستے کے ساتھ مسلم سماج کے 400 مکانات منہدم، 3 ہزار لوگ کھلے آسمان تلے بے گھر

کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں ہفتہ کی علی الصبح بڑے پیمانے پر انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت انتظامیہ نے ییلہنکا علاقے کے کوگیلو گاؤں میں واقع فقیر کالونی اور وسیم لے آؤٹ کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا۔ اس کارروائی میں تقریباً 400 مکانات ڈھا دیے گئے، جس کے نتیجے میں قریب 3,000 افراد کھلے آسمان تلے آ گئے۔ متاثرین میں بڑی تعداد خواتین، بزرگوں اور کم سن بچوں کی ہے۔

مکتوب میڈیا کی موقع سے کی گئی رپورٹنگ کے مطابق یہ کارروائی صبح تقریباً 4 بجے شروع ہوئی، جب بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے افسران چار جے سی بی مشینوں کے ساتھ علاقے میں داخل ہوئے۔ انتظامیہ نے مکانات کے اندر سے گیس سلنڈر اور دیگر آتش گیر اشیاء نکالنے کے بعد پوری بستی کو منہدم کر دیا۔

مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ وہ 20 سے 30 برس سے یہاں مقیم تھے اور ان کے پاس آدھار تکارڈ، ووٹر آئی ڈی، پین کارڈ اور راشن کارڈ جیسے تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں۔ اس کے باوجود نہ تو انہیں کوئی تحریری نوٹس دیا گیا اور نہ ہی بازآبادکاری یا معاوضے کا کوئی انتظام کیا گیا۔

ایک معمر خاتون نے بتایا کہ انہیں گھر سے سامان تک نکالنے کی مہلت نہیں دی گئی۔ “ہمارے بچے باہر تھے اور میں اکیلی تھی۔ بلڈوزر آیا اور سب کچھ توڑ دیا،”

مکتوب میڈیا سے گفتگو میں مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ یہ بستی غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں اور مختلف سرکاری اسکیموں سے فائدہ بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب، جی.بی.اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ بستی اردو سرکاری اسکول کے قریب واقع ایک تالاب کی زمین پر غیر قانونی طور پر بسائی گئی تھی اور مکانات کی تعمیر کے لیے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

مقامی باشندوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے انہیں مسلسل ہٹانے کا دباؤ بنایا جا رہا تھا اور کارروائی سے ایک دن قبل علاقے کی بجلی اور انٹرنیٹ سروس منقطع کر دی گئی تھی

مکتوب میڈیا کی زمینی رپورٹ کے مطابق، اس علاقے کے 500 سے زائد بچے سرکاری اور نجی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ اچانک کی گئی اس کارروائی نے ان کی تعلیم اور مستقبل کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

کارروائی کے دوران تقریباً 150 پولیس اہلکار، جن میں اعلیٰ افسران بھی شامل تھے، موقع پر تعینات رہے۔ تاہم متاثرین کا الزام ہے کہ انتظامیہ یا کسی منتخب نمائندے کی جانب سے تاحال کوئی راحت یا متبادل رہائش فراہم نہیں کی گئی۔

شام ڈھلتے ہی اجڑی ہوئی بستی کے لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے گھروں کے ملبے کے درمیان بیٹھے دکھائی دیے—ہاتھوں میں شناختی دستاویزات اور آنکھوں میں مستقبل کے حوالے سے گہری بے یقینی۔

وندے ماترم کے تمام اشعار کی لازمی قرأت غیر آئینی اور ناقابل قبول: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی اس حالیہ نوٹیفکیشن پر سخت

ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں پٹنہ میں احتجاج، دیپانکر بولے: “چار لیبر کوڈ واپس لینے ہوں گے”

مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر منعقدہ ملک گیر عام ہڑتال کی حمایت میں جمعرات

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو