بھیما کوریگاؤں معاملے میں یو اے پی اے (UAPA) کے تحت پانچ سال اور چار ماہ قید گزارنے کے بعد دہلی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور نمایاں دلت کارکن ہنی بابو ایم ٹی کی 4 دسمبر 2025 کو ضمانت پر رہائی، جدوجہد، مایوسی اور گہرے فکری و روحانی تغیر کی ایک غیر معمولی کہانی سامنے لاتی ہے۔
معروف انگریزی میڈیا ادارے فرنٹ لائن میگزین کو دیے گئے اپنے پہلے تفصیلی انٹرویو میں پروفیسر بابو نے ممبئی کی تالوجا جیل کی سخت حقیقتوں، متوسط طبقے کی وقار شکنی، اور سب سے اہم—مارکسی پس منظر کے باوجود اسلام کی جانب اپنے روحانی رجحان—پر کھل کر گفتگو کی۔
پروفیسر بابو نے آزادی کے مفہوم کو جیل کی دیواروں سے باہر آ کر نئے سرے سے سمجھا۔ ان کے مطابق آزادی صرف بڑے عوامی تحرکات میں نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کی ان معمولی سہولتوں میں بھی پوشیدہ ہے جنہیں ہم اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں—جیسے اپنی مرضی سے کافی پینا یا گانے سننا۔ “جب آپ آزاد ہوتے ہیں تو ہر چھوٹی چیز میں آزادی ہوتی ہے۔ جیل میں آپ کی نقل و حرکت پر تین سطحی پابندیاں عائد ہوتی ہیں اور آپ کی ذاتی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لی جاتی ہے۔”
انہوں نے محسوس کیا کہ باہر کی سماجی نگرانی اور جیل کی مسلسل نگرانی میں فرق صرف درجے کا ہے۔ تاہم جیل میں ایک یقین پیدا ہو جاتا ہے: “باہر آپ کو لگتا ہے کہ آپ آزاد ہیں؛ اندر آپ جانتے ہیں کہ آپ آزاد نہیں ہیں۔” انہوں نے اقتدار کی طاقت کو قریب سے محسوس کیا اور کہا کہ ایک دانشور کو بھی کچلا جا سکتا ہے، مگر آخری آزادی “کچلے جانے سے انکار” میں مضمر ہے۔
قید کے دوران پروفیسر بابو شدید ذہنی بحرانوں سے گزرے۔ 2021 میں کووِڈ وبا کے دوران آنکھ کے سنگین انفیکشن نے انہیں موت کے قریب لا کھڑا کیا۔ 2023 میں شریک ملزمان کی ضمانت کے باوجود اپنی رہائی نہ ہونے پر انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے الفاظ میں، “دو سال گزر گئے، کچھ نہیں ہوا۔ میں امید اور ناامیدی کے بیچ جھولتا رہا۔ مجھے لگنے لگا تھا کہ میں یہیں رہوں گا اور یہیں مر جاؤں گا۔ آزادی کے لیے یہ لامتناہی انتظار مجھے بے پناہ ناامیدی سے بھر دیتا تھا۔”
انٹرویو کا سب سے اہم اور بحث انگیز پہلو ان کی روحانی تبدیلی ہے۔ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود جہاں ان کے والد ملحد اور مارکسی تھے، پروفیسر بابو نے جیل میں اسلام میں اپنا یقین پایا۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی گرفتاری سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، جب مذہب میں ان کی دلچسپی ایک “سماجی مظہر” کے طور پر بڑھی۔ تاہم فیصلہ کن لمحہ این آئی اے لاک اپ میں آیا: “میں وہاں بیٹھا، آنکھیں بند کیں اور محسوس کیا کہ میں خلا کے لامتناہی کائنات میں گر رہا ہوں۔ میرے دل سے ایک پکار اٹھی۔ میں نے ‘اللہ’ کہا۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ اللہ کے ذریعے میں اس کیفیت کا سامنا کرنے کی طاقت پا سکتا ہوں۔”
انہوں نے اس عقیدے کو اپنی قوت کا سرچشمہ بنایا۔ جیل میں ہی انہوں نے یو اے پی اے کے تحت قید مسلم دانشور قیدیوں سے قرآن پڑھنا، نماز ادا کرنا اور عربی زبان سیکھنا شروع کیا۔
اپنی لسانی اور فلسفیانہ بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے پروفیسر بابو نے مذہب کی نئی تعبیر پیش کی۔ انہوں نے مارکس کے “افیون” والے بیان کو نیا مفہوم دیا اور کہا کہ افیون محض نشہ نہیں بلکہ “دوا” بھی ہے۔ ان کے مطابق، “جس طرح زبان کی ایک ساخت ہوتی ہے، اسی طرح دنیا کی بھی ایک ساخت ہے۔ اگر دنیا کی ایک ساخت ہے تو اس کا معنی کیا ہے؟ مذہب یہی کرتا ہے—وہ دنیا کی ساخت کو معنی دیتا ہے اور انسانی وجود کو مقصد عطا کرتا ہے۔”
انہوں نے اعتراف کیا کہ رمضان میں اجتماعی روزے اور عید کی نماز نے انہیں مسلم برادری سے جوڑ دیا، جس نے قید کے دوران انہیں اضافی طاقت اور اپنائیت کا احساس دیا۔
پروفیسر بابو نے واضح کیا کہ جیل میں طبقاتی اور ذات پات کی خلیج کم نہیں ہوتی بلکہ مزید گہری ہو جاتی ہے۔ متوسط طبقے کے قیدیوں کو “وی آئی پی بیرکس” اور تلاشی سے استثنا جیسے خصوصی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق انہیں وہاں کے اشرافیہ طبقے سے زیادہ مسئلہ ہوا، جو غریب اور غیر تعلیم یافتہ قیدیوں کے “دخل اندازی” والے رویے سے نالاں رہتا تھا۔ “میں نے ان سے کہا کہ آپ اس طبقے سے آتے ہیں جو پرائیویسی کو مقدس سمجھتا ہے، مگر یہاں لوگ جھگیوں کے ماحول سے آتے ہیں جہاں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ وہاں سب کی زندگی میں سب شامل ہوتے ہیں۔”
آخر میں اپنی پسندیدہ ڈش بریانی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا بھارتی کھانا ہے جو ملک کی “سبزی خور” شناخت کو چیلنج کرتا ہے، کیونکہ ہر ذات اور طبقے کے لوگ اسے پسند کرتے ہیں—یہاں تک کہ تالوجا جیل میں بھی۔
یوں پروفیسر ہنی بابو کا یہ انٹرویو بھارتی عدالتی نظام، سیاسی قیدیوں کی حالت اور ذاتی ایمان کی پیچیدگیوں پر ایک نہایت اہم اور معنی خیز تبصرہ بن کر سامنے آتا ہے۔