سڈنی میں یہودی مذہبی تقریب پر حملہ، 12 افراد ہلاک! مسلمان نوجوان احمد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور سے ہتھیار چھین لیا

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور ساحلی علاقے بونڈی بیچ میں یہودی برادری کے مذہبی تہوار حنوکا کے موقع پر منعقد ایک عوامی پروگرام پر اتوار کو ہونے والے خوفناک حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اندھا دھند فائرنگ کے اس واقعے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 10 سے زائد زخمی ہو گئے، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

آسٹریلوی پولیس کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب حنوکا کی تقریبات کے سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگ بونڈی بیچ پر جمع تھے۔ اچانک فائرنگ سے موقع پر بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس نے اس حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں تین حملہ آور ملوث تھے۔ ان میں سے ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے مشتبہ گھریلو ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس اور انسدادِ دہشت گردی ایجنسیاں مشترکہ طور پر معاملے کی تفتیش کر رہی ہیں۔

اس ہولناک واقعے کے درمیان انسانیت اور بہادری کی ایک مثال بھی سامنے آئی۔ عینی شاہدین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مسلمان شہری احمد نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر تین حملہ آوروں میں سے ایک کو قابو میں کر کے اس کا ہتھیار چھین لیا۔ اس دوران احمد کو دو گولیاں لگیں اور وہ زخمی ہو گئے، تاہم ان کی جرأت مندانہ کارروائی سے کئی جانیں بچ گئیں۔ احمد اس وقت اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا اور مقامی برادریوں میں احمد کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس حملے کو “دہشت گردانہ اور غیر انسانی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یہودی برادری کو خوف زدہ کرنے کی کوشش ہے اور حکومت ان کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ نے بھی اسے ایک منظم اور سوچا سمجھا حملہ بتایا۔

اس واقعے پر عالمی سطح پر بھی سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین کے رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ وہیں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مسلم تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں نے مشترکہ بیان جاری کر کے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کسی بھی مذہب یا شناخت کی بنیاد پر تشدد ناقابلِ قبول ہے۔

حملے کے بعد سڈنی سمیت دیگر شہروں میں یہودی مذہبی مقامات اور عوامی تقاریب کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح “ممکنہ” برقرار ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔

قابلِ ذکر ہے کہ حنوکا یہودیوں کا ایک اہم مذہبی تہوار ہے جسے “روشنیوں کا تہوار” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تہوار مذہبی آزادی اور ایمان کی فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے اور عام طور پر آٹھ دن تک منایا جاتا ہے۔ بونڈی بیچ پر منعقد پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک عوامی تقریب تھی، جسے اس دہشت گردانہ حملے نے سوگ میں بدل دیا۔

یہ دردناک واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ تشدد کسی بھی شکل میں قابلِ قبول نہیں، جبکہ احمد جیسے بہادر شہری یہ یاد دلاتے ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت زندہ رہتی ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو