امریکہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی جنرل سیکریٹری محمد الیاس تھمبے نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ دستاویز دنیا پر فوجی اور معاشی غلبہ قائم رکھنے کا کھلا اعلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمتِ عملی کا اعلان شدہ مقصد—“آنے والی دہائیوں تک امریکہ کو دنیا کا سب سے طاقتور، سب سے خوشحال اور سب سے بااثر ملک بنائے رکھنا”—عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
الیاس تھمبے کے مطابق، کسی بھی ملک کے لیے ترقی اور قیادت کی خواہش فطری ہے، لیکن امریکہ جس انداز میں اس مقصد کے تعاقب میں ہے، وہی دنیا کو غیر محفوظ بنا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ باہمی تعاون اور بقائے باہمی کے بجائے جبر، معاشی استحصال اور فوجی طاقت کے استعمال پر انحصار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے رسمی وابستگی کے باوجود، امریکہ دہائیوں سے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اپنے ناقدین اور مخالفین کو غیر مستحکم کرتا آیا ہے۔ افریقہ میں پیٹرس لومومبا سے لے کر چلی میں سالواڈور آیینڈے اور عراق میں صدام حسین تک—امریکہ نے اُن رہنماؤں کو ہٹانے میں کردار ادا کیا جنہیں وہ اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا تھا۔ تھمبے نے الزام لگایا کہ سی آئی اے کی مبینہ ہٹ لسٹ میں شامل رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے قتل اور زہر دینے جیسے طریقوں کا بھی سہارا لیا گیا۔
مغربی ایشیا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور خطے میں بالادستی برقرار رکھنے کے لیے امریکہ نے ایران، عراق، شام اور لبنان جیسے ممالک کو طویل عرصے تک غیر مستحکم رکھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران، پناہ گزینوں کا سیلاب اور غزہ میں نسل کُشی جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔ انہوں نے افغانستان اور ویتنام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے بھی امریکی پالیسیوں کی بھاری قیمت چکائی ہے۔
یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے تھمبے نے کہا کہ امریکہ نے ابتدا میں یوکرین کو فوجی مدد فراہم کی، لیکن ترکی کی ثالثی سے ممکنہ امن معاہدے کو مغربی طاقتوں—بالخصوص امریکہ—نے ناکام بنا دیا۔ اب جبکہ جنگ چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے، امریکہ مبینہ طور پر یوکرین پر حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کرنے اور روس کے سامنے جھکنے کا دباؤ ڈال رہا ہے۔
نیٹو اور مغربی یورپ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ برسوں سے اپنے اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے زور دیتا رہا۔ جب یورپی ممالک نے ایسا کیا تو امریکی قیادت—خصوصاً سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ—نے انہیں “کمزور” اور “زوال پذیر” قرار دیا۔ تھمبے کے مطابق، اگر آج مغربی قیادت کمزور دکھائی دیتی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی اسی امریکہ پر عائد ہوتی ہے جس نے خود کو طویل عرصے تک “آزاد دنیا کا رہنما” کہا.
آخر میں انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک مل کر دنیا کا استحصال کرنے والے مغربی ممالک آج آپس میں ہی ٹکراؤ کی کیفیت میں ہیں، جس سے عالمی عدمِ تحفظ مزید بڑھ رہا ہے۔ تھمبے نے اپیل کی کہ باقی دنیا کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہوگا اور جنگ و بالادستی کی سیاست کے متبادل تلاش کرنے ہوں گے۔