ملک کی عدلیہ میں ممکنہ فکری جانب داری کو لے کر ایک بڑا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ انڈیا بلاک کے ارکانِ پارلیمنٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس جی۔ آر۔ سوامیناتھن کے طرزِ عمل پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ اگست 2025 میں ہی ان ارکانِ پارلیمنٹ نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور اُس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) کو خط لکھ کر الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ جج برہمن برادری اور جنوب مخالف (رائٹ ونگ) نظریات سے وابستہ وکلاء کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں۔
11 اگست کو تحریر کیے گئے یہ خط—جو اب منظرِ عام پر آئے ہیں—یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جسٹس سوامیناتھن کے اقدامات “ثابت شدہ بدعنوانی اور سنگین بدعنوانی” کے زمرے میں آتے ہیں۔ خط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بطور سنگل بنچ جج، وہ جان بوجھ کر مخصوص وکلاء کے معاملات کو ترجیح دیتے تھے، جس سے عدالتی عمل میں ذات پر مبنی مخصوصیت کا تاثر گہرا ہوتا تھا۔
ارکانِ پارلیمنٹ کے مطابق، “یہ طرزِ عمل عدالتی غیر جانب داری، شفافیت اور آئین میں درج عدلیہ کے سیکولر کردار کو مجروح کرتا ہے۔”
اپنے خط میں اراکینِ پارلیمنٹ نے جسٹس سوامیناتھن کے متعدد فیصلوں کو نظریاتی جھکاؤ کی مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے خاص طور پر کرور مندر کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا، جہاں جج نے ‘انّ دانم’ اور ‘اَنگ پردکشنم’ جیسی رسومات کی اجازت دی تھی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے مطابق یہ فیصلہ اُس سابقہ ڈویژن بنچ کے حکم کو پسِ پشت ڈالتا ہے جس نے ان رسومات کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کی تھی۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ “ججوں کے اپنے ذاتی عقائد ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں عدالتی استدلال پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر جب معاملہ بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق ہو۔”
ارکانِ پارلیمنٹ کی یہ شکایت اس ہدایت سے کہیں پہلے کی ہے جس نے حالیہ دنوں میں تنازع کو عروج پر پہنچایا۔ اس حکم میں جسٹس سوامیناتھن نے مدورَی کے تِھروپرنکُنڈرم مندر کے حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ پہاڑی پر واقع ایک درگاہ کے قریب دیپ استھمب پر کارتکئی دیپم روشن کریں۔
اس واقعے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کی تجویز پیش کی تھی، جس کے ذریعے جج کو مدورَی بنچ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جانا تھا۔ انڈیا بلاک کا مؤقف ہے کہ جج کا طرزِ عمل عدالتی اخلاقیات کے منافی ہے اور عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
یہ معاملہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں بھی نظریاتی جھکاؤ کی بنیاد پر انصاف فراہم کیے جانے کے خدشات گہرے ہوتے جارہے ہیں—اور اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ناگزیر ہوچکی ہیں۔