مرکزی حکومت نے جمعہ کو وقف املاک کی رجسٹریشن سے متعلق قواعد میں عارضی راحت کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق، امید پورٹل پر تاخیر سے رجسٹریشن کرنے والے متولیوں کے خلاف اگلے تین ماہ تک نہ کوئی جرمانہ عائد ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ اعلان Waqf (Amendment) Act 2025 کے تحت رجسٹریشن کی آخری تاریخ پوری ہونے کے دن کیا گیا۔
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور، کرن رجیجو نے بتایا کہ ملک بھر میں بڑی تعداد میں وقف املاک ابھی تک پورٹل پر درج نہیں ہو پائی ہیں۔ ان کے مطابق اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد املاک کا اندراج مکمل ہو چکا ہے، تاہم لاکھوں املاک ابھی بھی رجسٹریشن سے محروم ہیں۔
حالیہ دنوں میں کئی سماجی تنظیموں اور اراکین پارلیمنٹ نے وقف املاک کی رجسٹریشن کی وقتِ حد میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا تھا کہ چھ ماہ کی مقررہ مدت میں تبدیلی ممکن نہیں۔
وزیر نے مزید بتایا کہ جن متولیوں یا وقف بورڈز کو مزید مہلت درکار ہے، وہ وقف ٹریبونل سے رجوع کر سکتے ہیں۔ قانون کے مطابق، ٹریبونل زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی اضافی مہلت فراہم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
کرن رجیجو نے کہا“حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ اگلے تین ماہ تک ہم کوئی کارروائی نہیں کریں گے، لیکن جنہیں مزید وقت چاہیے وہ ٹریبونل سے رجوع کریں۔”
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پارلیمنٹ سے پاس شدہ قانون کو حکومت تبدیل نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا “ہماری کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت ملے، لیکن بعض فیصلے قانون کے تحت طے شدہ ہوتے ہیں۔”
قابل ذکر ہے کہ امید پورٹل جون 2025 میں لانچ کیا گیا تھا اور وقف املاک کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کو لازمی قرار دیتے ہوئے چھ ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس ہفتے اس مدت میں توسیع سے متعلق دائر تمام درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔