اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے جمعرات کے روز کشمیر کے ایک قدیم اور معتبر صحافتی ادارے کشمیر ٹائمز کے دفتر پر اچانک چھاپہ مارا اور اس کے ساتھ ہی اخبار کی مینیجنگ ایڈیٹر اور سینئر صحافی انورادھا بھسین کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے بعد میڈیا برادری میں شدید بے چینی اور غم و غصے کی لہریں دوڑ گئی ہیں۔
کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن (CASR) نے چھاپے اور ایف آئی آر کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے آزاد اور تنقیدی صحافت پر سیدھا حملہ قرار دیا ہے۔ CASR کے مطابق وادیٔ کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران صحافیوں پر دباؤ، سمن، چھاپوں اور قانونی پابندیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تنظیم CASR کی جانب سے جاری پریس بیان میں کہا گیا کہ “یہ کارروائی محض ایک ’تحقیق‘ نہیں بلکہ آزاد اور تنقیدی صحافت کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔”
بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ حال ہی میں انورادھا بھسین کی شائع ہونے والی کتاب کو بھی سرکاری سطح پر روکنے اور عوامی تقریبات میں پیش کئے جانے سے منع کرنے کے اقدامات کیے گئے، جو اظہارِ رائے اور ادبی آزادی پر براہ راست قدغن ہے۔
تنظیم کے مطابق کشمیر میں صحافی ایف آئی آر، آلات و ڈیجیٹل ڈیوائسز کی ضبطی، سفری پابندیوں اور UAPA، PSA، NSA جیسی سخت ترین دفعات کے تحت گرفتاریوں کے خطرے کے سائے میں رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ متعدد نیوز رومز شدید دباؤ میں ہیں اور آزاد رپورٹنگ اب خطرہ بن کر رہ گئی ہے۔
تنظیم CASR نے کہا کہ کشمیر ٹائمز کے خلاف کارروائی دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ
’’آزادانہ اور تنقیدی رپورٹنگ کو ریاستی طاقت کے ذریعے روکا جائے گا۔‘‘
تنظیم CASR نے حکومت اور انتظامیہ کے سامنے درج ذیل مطالبات رکھے ہیں:
- صحافیوں پر جابرانہ کارروائیاں فوراً بند کی جائیں۔
- جموں و کشمیر کے تمام صحافیوں کی سلامتی، وقار اور پیشہ ورانہ آزادی کی ضمانت دی جائے۔
- صحافتی و ادبی سرگرمیوں میں سرکاری مداخلت ختم کی جائے۔
- کتابوں اور مطبوعات پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں۔
- گرفتار صحافیوں کو فوری رہا کیا جائے۔
تنظیم CASR نے ملک کی جمہوری تنظیموں، پریس اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر ٹائمز اور آزاد صحافیوں کو خاموش کرانے کے اقدامات کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔