دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ہفتے کے روز ایک منظم اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ممکنہ روابط کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے نیٹ ورک سے وابستہ چار اسمگلروں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے ترکی اور چین میں تیار کی گئی 10 جدید پستولیں اور 92 زندہ کارتوس برآمد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ اسمگلر دہلی میں اسلحہ کی ترسیل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر روہنی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ٹیم نے مشتبہ افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے اسلحے کا معیار اور نیٹ ورک کی ساخت ظاہر کرتی ہے کہ یہ ایک انتہائی منظم، خطیر سرمایہ رکھنے والا اور تکنیکی طور پر جدید گروہ کے طور پر کام کر رہا تھا۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ پورا نیٹ ورک پاکستان سے کنٹرول ہوتا تھا۔ اسلحہ پہلے ترکی اور چین سے پاکستان بھیجا جاتا، جس کے بعد ڈرون کے ذریعے پنجاب میں گرایا جاتا تھا۔ وہاں سے یوپی اور پنجاب کے اسمگلروں کی مدد سے اسے دہلی سمیت دیگر ریاستوں تک پہنچایا جاتا تھا، جبکہ ادائیگیاں حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان منتقل کی جاتی تھیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت مندیپ، اجے، دلویندر اور روہن کے طور پر کی گئی ہے۔ چاروں کا تعلق پنجاب اور اتر پردیش سے ہے اور وہ طویل عرصے سے مختلف گینگز کے لیے سپلائر کے طور پر سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق یہ اسمگلر لارنس، بَمبِیہ، گوگی اور ہِمانشو بھاؤ جیسے بدنام گینگز کو اسلحہ فراہم کرتے تھے۔
پولیس اس بات کا سراغ لگانے میں مصروف ہے کہ اب تک اس نیٹ ورک کے ذریعے ملک میں کتنی کھیپ منتقل کی گئی اور کن گینگز تک اسلحہ پہنچا۔ اس سلسلے میں پولیس موبائل لوکیشن، بینک ٹرانزیکشنز، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور بین الاقوامی روابط کی باریکی سے جانچ کر رہی ہے۔ حکام نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں ممکن ہیں۔
10 نومبر کو دہلی میں ہونے والے کار بلاسٹ کے بعد سے ملک بھر کی سکیورٹی ایجنسیاں پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔ ایسے ماحول میں اس نیٹ ورک کا پکڑے جانا تحقیقات کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ البتہ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اسلحہ اسمگلنگ کے اس ماڈیول کا اب تک کسی دہشت گرد نیٹ ورک سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، لیکن گینگرس کے ساتھ اس کے روابط واضح ہیں۔
کرائم برانچ کے مطابق نیٹ ورک کے سرغنہ اور پاکستان کنکشن کی باضابطہ تصدیق کے بعد تحقیقات کے دائرے کو مزید وسیع کیا جائے گا۔