چھتیس گڑھ کے بستر خطے میں ماؤنواز رہنما مدوی ہڈما، ان کی اہلیہ راجککا اور پانچ دیگر افراد کی 18 نومبر کو مبینہ مڈبھیڑ میں ہلاکت نے شدید تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ انسانی حقوق سے وابستہ پلیٹ فارم کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن (CASR) نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قانون کی دھجیاں اڑانے اور ریاستی سطح پر منظم قتل‘‘ قرار دیا ہے۔
تنظیم CASR کی جانب سے جاری پریس بیان کے مطابق ہڈما اور ان کے ساتھیوں کو 28 اکتوبر کو ایک پناہ گاہ سے غیر مسلح حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر غیر قانونی حراست اور تشدد کے بعد انہیں فرضی مڈبھیڑ کا رنگ دے کر ہلاک کر دیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئین، انسانی حقوق کے عالمی رہنما اصولوں اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ یکم جنوری 2024 سے جاری ’آپریشن کگار‘ کے دوران اب تک 500 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں ماؤنواز کارکنان کے ساتھ عوامی تحریکوں کے رضاکار اور عام قبائلی شہری بھی شامل ہیں۔ CASR کے مطابق یہ کارروائیاں کارپوریٹ منصوبوں کے خلاف مزاحمت کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
پریس بیان میں مندرجہ زیل تین اہم فیصلوں کا حوالہ دیا گیا
اوم پرکاش بنام جھارکھنڈ (2012): ’’جعلی مڈبھیڑ ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی ہے۔‘‘
پرکاش قدم بنام رام پرساد وِشناتھ گپتا (2011): ’’فرضی مڈبھیڑ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ہاتھوں منصوبہ بند قتل ہے۔‘‘
تنظیم PUCL بنام مہاراشٹر (2014): ہر مڈبھیڑ کو قتل کا مقدمہ سمجھتے ہوئے آزاد ایف آئی آر، مجسٹریٹ انکوائری اور فرانزک شواہد کے تحفظ کو لازمی قرار دیا گیا۔
تنظیم CASR کے مطابق ریاست مسلسل آئین کے آرٹیکل 21 اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کو نظر انداز کر رہی ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز جج، جیوری اور جلاد کے کردار کو یکجا کر چکی ہیں۔
تنظیم نے فوری طور پر درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیا ہے
ریٹائرڈ ججز اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل آزاد تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل
پوسٹ مارٹم کی مکمل ویڈیوگرافی اور لاشوں کی حوالگی اہل خانہ کو
مڈبھیڑ میں شامل سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج
’آپریشن کگار‘ اور سورج کنڈ منصوبے کی فوری معطلی
تنظیم CASR کے بیان پر AIRSO، AISA، AISF، APCR، بھیم آرمی، CEM، DSU، Fraternity، IAPL، NTUI، رہائی منچ، SFI، WSS سمیت متعدد قومی تنظیموں کے دستخط موجود ہیں۔ انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ بستر اور دیگر قبائلی علاقوں میں حالات بڑھتے ہوئے عسکری محاصرے اور اختلاف رائے کو کچلنے کی مثال بن چکے ہیں۔
ہڈما کی موت نے ایک بار پھر قانون کے نفاذ اور سکیورٹی کے اختیارات کے بیچ توازن کی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شفاف اور آزاد تحقیقات نہ ہوئیں تو اس تنازع میں مزید شدت آئے گی، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں عدم تحفظ اور ریاست پر عدم اعتماد مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
بستر میں جاری صورتحال پر ملک بھر کے انسانی حقوق کارکنوں کی نظریں مرکوز ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان اور قبائلی برادری انصاف اور سچائی کے انکشاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔