بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں این ڈی اے کی تاریخی کامیابی کے بعد وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں دسویں مرتبہ حلف اٹھایا۔ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزراء، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور عوام کے بڑے ہجوم کی موجودگی میں ہونے والی اس پُروقار تقریب میں 26 وزراء نے بھی حلف لیا۔
نئی کابینہ کو سماجی اور نسلی توازن کے لحاظ سے نہایت احتیاط کے ساتھ تشکیل دیا گیا ہے، جس کی جھلک ہر طبقے اور خطّے کی نمائندگی میں صاف دکھائی دیتی ہے۔
کابینہ میں پچھڑے اور انتہائی پچھڑے طبقے کا سب سے بڑا حصہ رہا۔ اس زمرے سے مجموعی طور پر 14 وزراء شامل کیے گئے، جن میں بی جے پی کے 8، جے ڈی یو کے 3 اور اتحادی جماعتوں کے 3 وزراء ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بہار کی سماجی ساخت کو دیکھتے ہوئے یہ طبقہ حکومت کی بنیادی سیاسی بنیاد کی نمائندگی کرتا ہے۔
دلت اور مہا دلت سماج سے 5 وزراء کو جگہ دی گئی ہے۔ ان میں جے ڈی یو کے 2، جبکہ بی جے پی، ایل جے پی (RV) اور ہم پارٹی سے ایک—ایک وزیر شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ نمائندگی آنے والے وقت میں سماجی شمولیت کو مزید تقویت دے گی۔
سورن برادری سے کل 8 وزراء شامل کیے گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ 4 راجپوت ہیں۔ بھومیہار سے 2 جبکہ برہمن اور کائستھ برادری سے ایک—ایک وزیر کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ برہمن آبادی کے مقابلے میں صرف ایک وزیر کی شمولیت نے سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔
مسلم سماج سے صرف ایک وزیر—جے ڈی یو کے زماں خان کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے این ڈی اے کی روایتی ’’سوشل انجینئرنگ‘‘ کی پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
متھلانچل سے 3، سیمانچل سے 2، مُونگیر ڈویژن سے نائب وزیر اعلیٰ سمیت 3 اور پٹنہ ڈویژن سے سب سے زیادہ وزراء شامل کیے گئے ہیں۔ ترہت، شاہ آباد، بھوجپور، کوسی اور مگدھ کو بھی کابینہ میں خاطر خواہ جگہ ملی ہے۔
کابینہ کے پورے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ حکومت نے پچھڑے–انتہائی پچھڑے طبقے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ساتھ ہی خواتین اور نوجوانوں کو شامل کر کے بی جے پی کے نئے ’’ایم وائی فارمولا‘‘—یعنی ’’مہلا و یووا‘‘—کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔
نتیش کمار نے اس بار بھی اپنے قابلِ اعتماد اور پرانے چہروں پر بھروسہ برقرار رکھا ہے، جبکہ بی جے پی نے نئے اور تجربہ کار چہروں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اوپندر کشواہا کی جانب سے اپنے بیٹے کو وزیر بنانے کے فیصلے پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ مبصرین نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے این ڈی اے کی ’خاندانی سیاست مخالف‘ پوزیشن پر سوال اٹھ سکتا ہے۔
243 رکنی اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ 36 وزراء بن سکتے ہیں، مگر فی الحال 27 نے حلف لیا ہے۔ کابینہ توسیع کی تیاریاں جاری ہیں اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ جے ڈی یو کوٹے سے دلت اور مسلم برادری کو مزید نمائندگی مل سکتی ہے۔
جے ڈی یو کے اندر بھی یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ ان دونوں طبقوں میں پارٹی کے لیے توسیع کا بڑا موقع موجود ہے۔ اسی لیے پورے بہار سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جے ڈی یو جنرل سیکریٹری افاق احمد خان اور سابق وزیر شیام رجک جیسے تجربہ کار رہنماؤں کو کابینہ میں شامل کیا جائے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی شمولیت سے جے ڈی یو کو دلت اور مسلم سماج میں بے مثال مضبوطی ملے گی۔
مجموعی طور پر نتیش کمار کی یہ کابینہ سماجی اور نسلی توازن پر مبنی ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اب سب کی نظریں کابینہ کی اگلی توسیع پر ہیں، جہاں باقی 9 عہدے سماجی اور سیاسی نمائندگی کی نئی تصویر طے کریں گے۔