بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کی تاریخی فتح نے ریاست اور ملک کی سیاسی سمت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری پی.عبدالمجید فیضی نے کہا کہ ریاست میں انتخابات کے دوران خصوصی گہری جانچ (SIR) کے نتیجے میں تقریباً 50 لاکھ افراد کو ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا، جبکہ حتمی فہرست کے بعد 3 لاکھ سے زائد افراد کے نام شامل کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل جمہوریت کی معتبر حیثیت کو شدید متاثر کرتا ہے اور انتخابی نتائج پر سوالات اٹھاتا ہے۔
فیضی نے مزید بتایا کہ انتخابات کے دوران خواتین اور دیگر سماجی طبقات کو لاکھوں روپے نقد فوائد اور مختلف اسکیموں کے ذریعے متاثر کرنے کی کھلی حکمت عملی اپنائی گئی، جسے انہوں نے آئینی اور قانونی نقطہ نظر سے انتخابی بدعنوانی قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ جمہوریت کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
اسی دوران، SDPI نے بہار کے انتخابات کو سیکولر جماعتوں کے لیے ایک اہم سبق قرار دیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ “fractured secular vote” یعنی سیکولر ووٹوں کی تقسیم بی جے پی جیسی پارٹیوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنتی ہے۔ SDPI نے کانگریس، آر جے ڈی اور دیگر جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وسیع اور مربوط اتحاد قائم کر کے سیکولر ووٹ کو متحد کریں اور ملک کی آئینی و سماجی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
پارٹی نے یہ بھی کہا کہ بہار کا یہ انتخاب صرف ریاست کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے ایک وارننگ ہے۔ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر جانبداری اور آئینی حدود کا احترام کریں، ورنہ جمہوریت کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہار کے انتخابات ریاست اور مرکز کی سیاست میں نئے توازن قائم کر سکتے ہیں، جبکہ عوام کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ جمہوریت کو بچانے اور ووٹ کے حق کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیکولر جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا۔