ٹِن سُکیا،آسام میں پیر کو نئے ٹِن سُکیا ریلوے اسٹیشن پر مقامی لوگوں نے جموں و کشمیر سے آئے 44 مزدوروں کو “مشکوک” قرار دیتے ہوئے روک دیا۔ یہ مزدور اروناچل پردیش میں پاور گرڈ پروجیکٹ میں کام کے لیے جا رہے تھے۔
مقامی لوگوں نے پولیس اور ریلوے حکام سے مزدوروں کے شناختی دستاویزات کی جانچ کی درخواست کی۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ حال ہی میں دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد یہ لوگ “مشکوک” لگ رہے تھے۔ ویڈیو میں مزدور اسٹیشن کے باہر سڑک پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیے۔
ٹِن سُکیا ایس ایس پی مَینک کمار نے بتایا کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام دستاویزات اور شناخت کی تصدیق کی۔ “سب کچھ درست پایا گیا اور مزدوروں کو آگے سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی۔”
ایس ایس پی نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تربیت یافتہ مزدور ہیں اور ان کے ٹھیکیدار کی طرف سے انہیں اروناچل پردیش میں بجلی کے گرڈ/ٹرانسمیشن پروجیکٹ میں کام کے لیے بلایا گیا تھا۔
آسام میں حالیہ دہلی دھماکے کے بعد سیکورٹی کے اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور حکومت نے آن لائن مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ اب تک اس مہم کے دوران 21 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔