اتر پردیش کے پتی علاقے کے ایک گاؤں میں اتوار کی صبح تقریباً 11 بجے دو دلت بہنوں پر مبینہ طور پر حملہ ہوا۔ متاثرہ بہنوں کا الزام ہے کہ انہی کے گاؤں کا ایک نوجوان بغیر اجازت ان کے گھر میں داخل ہوا اور انہیں ذات پر مبنی گالیاں دیتے ہوئے مارا پیٹا۔ اس دوران ملزم نے دونوں بہنوں کے کپڑے پھاڑ دیے اور گھر میں رکھی چارکی بھی توڑ دی۔
متاثرہ نے پولیس کو بتایا کہ جب انہوں نے ملزم سے باہر جانے کو کہا تو اس نے انہیں توہین آمیز گالیاں دی اور مارپیٹ شروع کر دی۔ واقعے کے بعد بہنوں نے فوری طور پر کندھائی تھانہ جا کر تحریری شکایت درج کرائی۔
تھانے کے انچارج انیل کمار نے تصدیق کی کہ تحریری درخواست موصول ہو گئی ہے اور کیس کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم شکایت کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی کارروائی کریں گے۔”
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ذاتی جھگڑا نہیں، بلکہ ذات پر مبنی ظلم و ستم کی سنگین مثال ہے۔ اتر پردیش میں دلتوں کے خلاف مظالم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے معاملات میں متاثرہ افراد کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے SC/ST ایکٹ کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔
مقامی لوگ اور متاثرہ خاندان مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس ملزم کے خلاف سخت کارروائی کرے اور یقینی بنائے کہ مستقبل میں کسی بھی دلت کمیونٹی کے فرد کے ساتھ ایسے واقعات نہ ہوں۔
یہ واقعہ انتظامیہ اور معاشرے دونوں کے لیے امتحان ہے کہ وہ دلتوں کے تحفظ اور ان کے آئینی حقوق کی حفاظت کس طرح یقینی بناتے ہیں۔