انصاف ٹائمس ڈیسک
حزب اختلاف کے لیڈر اور قومی جنتا دل کے سربراہ تیجسوی یادو نے پٹنہ میں ایک میڈیا کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ اگر ان کی حکومت بنے تو بہار میں کنٹریکٹ ملازمین اور جیویکا دیدیوں کے لیے کئی تاریخی اقدامات کیے جائیں گے۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار میں ڈبل انجن کی حکومت ناکارہ اور کرپٹ ہے، جو مسلسل جیویکا دیدیوں اور کنٹریکٹ ملازمین کا استحصال کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت کے بننے پر “مائی بہن مان” اسکیم نافذ کی جائے گی، جس کے تحت جیویکا سی ایم (کمیونٹی موبلائزر) دیدیوں کو مستقل ملازمت دی جائے گی اور ان کی ماہانہ تنخواہ 30,000 روپے ہوگی۔
اس کے علاوہ، جیویکا گروپ کی دیدیوں کے لیے لیے گئے قرض کا سود معاف کیا جائے گا، دو سال تک بغیر سود کے قرض فراہم کیا جائے گا اور دیگر سرکاری کاموں کے لیے ماہانہ 2,000 روپے کا بھتہ دیا جائے گا۔ CLF، VO اور گروپ کے صدر اور خزانہ دار کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت پانچ سال میں ہر دیدی کو مجموعی طور پر 1.5 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
تیجسوی یادو نے خواتین کے لیے بھی بڑے اعلانات کیے۔ انہوں نے کہا کہ BETI اور MAA اسکیم متعارف کرائی جائے گی، جس کے تحت بچیوں کی پیدائش سے لے کر ان کی تعلیم اور ملازمت تک کا انتظام کیا جائے گا۔ ماؤں کے لیے گھر، خوراک اور آمدنی کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے گی۔
کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی مستقل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تیجسوی نے الزام لگایا کہ کچھ کرپٹ افسران کمیشن کے لیے کنٹریکٹ ملازمین کی بھرتی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے گا اور ان کی تنخواہ سے 18% GST کٹوتی جیسی غیر منصفانہ کارروائیاں ختم کی جائیں گی۔
اس موقع پر رکنِ پارلیمان سنجے یادو، قومی ترجمان پروفیسر نول کشور یادو، سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر انور عالم، صوبائی ترجمان اعجاز احمد، ساریکا پاسوان، مدھو منجری اور صوبائی جنرل سکریٹری مکونڈ سنگھ سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
تیجسوی یادو کے ان اعلانات کو آنے والے بہار اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کے لیے ایک اہم انتخابی ایجنڈا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔