انصاف ٹائمس ڈیسک
اتر پردیش کے ضلع باندا سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک سرکاری جونیئر اسکول کے پرنسپل پر ساتویں جماعت کے ایک طالب علم کو بے رحمی سے پیٹنے اور ذات پات پر مبنی تضحیک آمیز تبصرہ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ دیہات کوتوالی علاقے کے لکھتارا گاؤں کا ہے، جہاں طالب علم نے پڑھانے کے لیے پرنسپل کی بجائے ایک خاتون اُستاد (میڈم) کو بلایا تھا۔ اسی بات پر برہم ہوکر پرنسپل نے مبینہ طور پر طالب علم کو ڈنڈے سے بری طرح مارا اور کہا “یادو ہو، پڑھ لکھ کر کیا کرو گے؟ جاؤ مویشیوں کو گھاس کھلاؤ، کھیتی باڑی کرو، وہی تمہارے کام آئے گا۔”
متاثرہ طالب علم کے مطابق، کلاس میں بچوں نے خاتون اُستاد کو بلایا کیونکہ وہ بہتر پڑھاتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی پرنسپل کو اس بات کا علم ہوا، وہ غصے میں آگئے اور طالب علم کو ڈنڈے سے بُری طرح پیٹ دیا۔ طالب علم نے یہ بھی بتایا کہ پرنسپل نے دھمکی دی کہ اگر زیادہ بولے تو کارروائی کر دی جائے گی۔
طالب علم کے اہل خانہ نے اس واقعے کی شکایت دیہات کوتوالی تھانے میں درج کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف مارپیٹ نہیں بلکہ ذات پات کی بنیاد پر توہین کا معاملہ ہے۔
گاؤں کے لوگوں نے بتایا کہ اسکول میں پرنسپل اور ایک خاتون اُستاد کے درمیان کافی عرصے سے تنازعہ چل رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اسکول کا تعلیمی ماحول بُری طرح متاثر ہو چکا ہے اور اب دونوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دیہات کوتوالی کے ایس او سی پی تیواری نے انصاف ٹائمز کو بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔
انہوں نے کہا “معاملہ ہمارے علم میں آیا ہے۔ پولیس ٹیم نے گاؤں جاکر جانچ کی ہے۔ بچوں کے والدین کو بلایا گیا ہے اور دونوں فریقوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔”
ذرائع کے مطابق، ضلعی محکمہ تعلیم نے بھی واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اگر ذات پات پر مبنی تبصرے کے الزامات درست پائے گئے، تو پرنسپل کے خلاف معطلی اور انسدادِ مظالم برائے درج فہرست ذات و قبائل (SC/ST) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
اساتذہ پر سے اعتماد میں کمی، سوالوں کی بوندھار
یہ واقعہ سرکاری اسکولوں کے نظام اور اساتذہ کے رویے پر کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے:
کیا ہمارے اسکول اب بھی محفوظ اور مساوی ماحول فراہم کر رہے ہیں؟
کیا اساتذہ ذات پات کے تعصب سے آزاد ہیں؟
کیا محکمہ تعلیم بچوں کے تحفظ کے حوالے سے واقعی جواب دہ ہے؟
بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف بچوں کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ تعلیمی نظام پر بھی گہرا زخم چھوڑ جاتے ہیں۔
باندا کا یہ واقعہ اب صرف ایک “تشدد کے کیس” تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے تعلیمی نظام میں چھپے ذات پات کے تعصب اور استاد کے غیر اخلاقی رویے کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب تعلیم کا مندر ہی خوف اور ذلت کی جگہ بن جائے — تو بچوں کو انصاف اور احترام کون دلائے گا؟