حنا نقیب
گیاری، ارریہ (بہار)
انصاف ٹائمس ڈیسک
ازدواجی زندگی انسانی معاشرے کا ایک بنیادی ستون اور ہر فرد کی ذاتی زندگی کا نہایت اہم اور حساس مرحلہ ہے۔ یہ صرف دو انسانوں کا نہیں بلکہ دو خاندانوں، اور بعض اوقات دو ثقافتوں کا ملاپ ہوتا ہے، جس کی بنیاد محبت، احترام، تعاون اور ایثار پر رکھی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے جو نہ صرف افراد کو ذاتی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ معاشرتی استحکام اور نسلوں کی بہترین تربیت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
اسلام میں ازدواجی زندگی کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن و حدیث میں شادی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورۃ الروم (آیت 21) میں اس رشتے کی اصل روح کو بیان کرتے ہوئے فرمایا “اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون پاؤ، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ازدواجی زندگی کا مقصد میاں بیوی کو ایک دوسرے میں جذباتی اور روحانی سکون فراہم کرنا ہے، اور ان کے درمیان محبت و شفقت کا رشتہ قائم کرنا ہے۔
نبی اکرم حضرت محمد ﷺ نے بھی نکاح کو اپنی سنت قرار دیا اور اسے ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بتایا۔
اسلام نے شوہر اور بیوی کے حقوق و فرائض کو متوازن رکھا ہے۔ قرآن کے مطابق، دونوں ایک دوسرے کا لباس ہیں، یعنی ایک دوسرے کی پردہ پوشی، حفاظت اور زینت کا باعث۔
ازدواجی زندگی کے فوائد ذاتی دائرے سے نکل کر معاشرتی سطح تک پھیلے ہوئے ہیں⁰
- ذاتی سکون اور تحفظ:
شادی مرد اور عورت دونوں کو جذباتی، نفسیاتی اور روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کا ساتھ، ہمدردی اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایک خوشگوار گھر فرد کے لیے دنیا کا سب سے محفوظ ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں وہ تمام پریشانیوں سے نجات پا کر تازہ دم ہوتا ہے۔ - خاندانی نظام کا استحکام:
خاندان معاشرے کی سب سے بنیادی اکائی ہے۔ شادی اس اکائی کو قانونی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ جب میاں بیوی کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے تو خاندان مستحکم ہوتا ہے، اور یہی استحکام پورے معاشرے میں امن و نظم کا باعث بنتا ہے۔ - اولاد کی بہتر تربیت:
بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کے لیے والدین کا صحت مند اور پرسکون تعلق انتہائی ضروری ہے۔ بچے اپنے والدین کے باہمی رویے سے محبت، احترام اور اخلاقی اقدار سیکھتے ہیں۔ ایک مستحکم ازدواجی ماحول انہیں ایک محفوظ اور پیار بھرا ماحول فراہم کرتا ہے، جس سے وہ ایک ذمہ دار شہری بنتے ہیں۔ - نسلِ انسانی کی بقا:
نکاح نسلِ انسانی کو پاکیزہ طریقے سے آگے بڑھانے کا واحد شرعی اور فطری ذریعہ ہے۔ یہ جنسی جذبات کی تسکین کو قانونی و اخلاقی حدود میں رکھتا ہے اور معاشرے کو بے راہ روی سے محفوظ کرتا ہے
ازدواجی زندگی کی خوشگواری اور پائیداری کے لیے چند بنیادی اصولوں پر عمل ضروری ہے:
- باہمی احترام اور اعتماد:
ایک دوسرے کی رائے، احساسات اور شخصیت کا احترام کرنا، اور مکمل اعتماد رکھنا اس رشتے کی مضبوطی کی پہلی شرط ہے۔ - ایثار اور قربانی:
ازدواجی زندگی میں صرف اپنے حقوق نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ضروریات اور خواہشات کو بھی اہمیت دینا چاہیے۔ قربانی کا جذبہ رشتے میں مٹھاس پیدا کرتا ہے۔ - حسنِ سلوک اور صبر:
زندگی میں اختلافات اور مشکلات کا آنا فطری ہے۔ ایسے مواقع پر غصے کے بجائے نرمی، محبت، صبر اور خوش اخلاقی سے معاملات کو حل کرنا ہی کامیاب ازدواجی زندگی کی ضمانت ہے۔ - ذمہ داریوں کا احساس:
شوہر اور بیوی دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔
ازدواجی زندگی محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور انسانی رشتہ ہے جو محبت، اعتماد اور قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ اس کی کامیابی نہ صرف دو افراد بلکہ پورے معاشرے کی خوشحالی کی ضامن ہے۔