انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد ریاست کی سیاست ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے وقت میں جب سماجی انصاف، مساوات اور نمائندگی کا سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے، ’سنگھرش سنواد‘ کے قومی کنوینر مستقیم صدیقی نے مہاگٹھ بندھن (انڈیا الائنس) سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں، انتہائی پسماندہ طبقات اور درج فہرست ذاتوں و قبائل کو باعزت سیاسی نمائندگی دی جائے۔
مستقیم صدیقی نے کہا کہ مسلمانوں کے متحدہ ووٹ بینک اور ان کی سیاسی شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، مہاگٹھ بندھن کو 40 اسمبلی نشستیں مسلم امیدواروں کو دینی چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن نشستوں پر ماضی میں مسلم امیدوار کھڑے ہوتے رہے ہیں، وہ نشستیں کسی بھی صورت میں دیگر برادریوں کو نہ دی جائیں — امیدوار تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن وہ مسلم برادری سے ہی ہونے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہار کی سماجی ساخت میں انتہائی پسماندہ، دلت اور آدیواسی طبقات کی آبادی فیصلہ کن ہے، اس لیے ان طبقات کو بھی ان کی آبادی کے تناسب سے باعزت نمائندگی دی جانی چاہیے۔
’سنگھرش سنواد‘ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مہاگٹھ بندھن یہ اعلان کرے کہ ریاست میں تین نائب وزرائے اعلیٰ بنائے جائیں — ایک مسلمان، ایک انتہائی پسماندہ طبقے سے اور ایک دلت برادری سے۔ ان کے مطابق یہ قدم سماجی انصاف کے جذبے کو حقیقی شکل دے گا۔
مستقیم صدیقی نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کو اپنے منشور میں تین الگ الگ اعلامیے (Declarations) جاری کرنے چاہئیں: 1.اقلیتی اعلامیہ (Minority Declaration)، 2.درج فہرست ذات و قبائل اعلامیہ (SC/ST Declaration)، 3.انتہائی پسماندہ طبقہ اعلامیہ (EBC Declaration)! ان میں تعلیم، روزگار، تحفظ اور سماجی و اقتصادی بااختیاری سے متعلق ٹھوس پالیسیاں شامل کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ، “یہ انتخاب صرف اقتدار کی تبدیلی کا نہیں بلکہ منصفانہ نمائندگی اور سماجی شمولیت کی سمت ایک فیصلہ کن قدم اٹھانے کا موقع ہے۔ بہار کے مسلمان، انتہائی پسماندہ، دلت اور آدیواسی ہمیشہ جمہوریت کے دفاع میں پیش پیش رہے ہیں — اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی آبادی اور قربانیوں کے مطابق انہیں حصہ داری اور احترام دیا جائے۔”
مستقیم صدیقی نے آخر میں کہا کہ، “اگر مہاگٹھ بندھن واقعی سماجی انصاف کے نظریے کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے علامتی نہیں بلکہ حقیقی نمائندگی دینی ہوگی یہی بہار کی نئی سیاست کا اصل پیمانہ ہے۔”