رائے بریلی میں دلت نوجوان کی پٹائی سے موت، “راہل گاندھی” کہتے ہوئے توڑا دم — 5 ملزمان گرفتار، پولیس اہلکار معطل

انصاف ٹائمس ڈیسک

اتر پردیش کے ضلع رائے بریلی میں ایک دلت نوجوان کی پٹائی سے موت نے پورے صوبے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ واقعہ اونچاہار تھانہ حلقے کے اشورداس پور گاؤں کا ہے، جہاں 38 سالہ ہری اوم، جو ایک بینک میں صفائی کے کام پر مامور اپنی اہلیہ سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے، اُن کو گاؤں والوں نے چور سمجھ کر بے رحمی سے مارا پیٹا۔

پولیس کے مطابق، ہری اوم راستہ بھٹک کر گاؤں میں پہنچ گئے تھے۔ گاؤں کے لوگوں نے انہیں روک کر پوچھ گچھ شروع کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ گھبراہٹ میں صحیح جواب نہ دے پائے تو بھیڑ نے ان پر حملہ کر دیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں ہری اوم کو زمین پر دبایا ہوا دیکھا جا سکتا ہے — ایک شخص اس کا چہرہ پاؤں سے دبا رہا ہے، جبکہ دیگر لوگ لاٹھیوں اور بیلٹ سے بے دردی سے پٹائی کر رہے ہیں۔

شدید زخمی حالت میں ہری اوم کو تڑپتے ہوئے “راہل گاندھی” کا نام لیتے سنا گیا۔ اسی دوران حملہ آوروں میں سے چند افراد چیختے ہوئے کہتے نظر آئے — “یہ بابا کا راج ہے” — جو مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حوالے سے کہا گیا۔ واقعے کے بعد ہری اوم کو نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا گیا، اور بعد میں ان کی لاش قریبی ریلوے ٹریک کے پاس برآمد ہوئی۔

رائے بریلی پولیس نے اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ دیگر ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔
غفلت برتنے کے الزام میں اونچاہار تھانہ انچارج کو ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ تین پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ معاملہ انسدادِ مظالم برائے درج فہرست ذات و قبائل ایکٹ اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

کانگریس پارٹی نے اس واقعے کو “ریاست میں قانون و انتظام کی مکمل ناکامی” قرار دیا ہے۔ پارٹی نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا “دلتوں اور غریبوں پر مظالم اب معمول بن گئے ہیں، یہ حکومت ہجوم کے دہشت کو بڑھا رہی ہے۔”

راہل گاندھی نے بھی ہری اوم کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق، حالیہ دنوں میں علاقے میں “ڈرون چوری” کی افواہیں پھیل رہی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہی افواہوں کے باعث گاؤں میں خوف کا ماحول تھا، اور اسی ڈر میں دیہاتیوں نے ہری اوم کو چور سمجھ لیا۔
سماجی کارکنوں نے کہا کہ یہ واقعہ افواہوں، ہجوم کے جنون اور ذات پات پر مبنی تعصب کے خطرناک امتزاج کا نتیجہ ہے۔

مقتول ہری اوم کی اہلیہ نے کہا کہ ان کے شوہر بے قصور تھے اور صرف راستہ بھٹک جانے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اہلِ خانہ نے انصاف، مجرموں کو سزائے موت اور سرکاری معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس نے متاثرہ خاندان کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

رائے بریلی کا یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا اتر پردیش میں دلت اور محروم طبقات واقعی محفوظ ہیں؟
ہجوم کی درندگی، سیاسی بیانات اور انتظامی غفلت کے بیچ ہری اوم کی موت صرف ایک قتل نہیں — یہ سماج کی اجتماعی ناکامی کا آئینہ ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو