انصاف ٹائمس ڈیسک
مرکزی حکومت کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اعزاز میں سکے اور ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کے فیصلے پر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “قومی شرم” اور “جمہوری اقدار کی توہین” قرار دیا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر محمد شفی نے کہا کہ آر ایس ایس کی سوچ فسطائی اور نازی نظریات سے متاثر رہی ہے اور یہ تنظیم ہمیشہ سماج کو مذہبی بنیادوں پر بانٹنے اور نفرت و تشدد کو فروغ دینے کا کام کرتی آئی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ آزادی کی جدوجہد میں آر ایس ایس کا کوئی کردار نہیں رہا، بلکہ اس نے برطانوی حکومت کی خاموش تائید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ: “ایسی تنظیم کو اعزاز دینا اُن اقدار کی بے حرمتی ہے جن کے لیے بے شمار آزادی کے متوالوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ حکومت کو فوراً یہ سکہ اور ڈاک ٹکٹ واپس لینا چاہیے۔”
ایس ڈی پی آئی نے خبردار کیا کہ جمہوریت اور سیکولرزم کو کمزور کرنے والی طاقتوں کی تعریف و توصیف کرنا ملک کے مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ فیصلہ پہلے ہی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت سرکاری اداروں اور علامتوں کو استعمال کر کے سنگھ کی نظریاتی فکر کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس تنقید پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور آیا یہ تنازعہ پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک مزید سیاسی ٹکراؤ کو جنم دیتا ہے یا نہیں۔