انصاف ٹائمس ڈیسک
بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر حملوں اور نفرت انگیز تقاریر کا سلسلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی نئی رپورٹ کے مطابق جون سے اگست 2025 کے درمیان ملک میں 141 نفرت پر مبنی جرائم (ہِیٹ کرائم) اور 102 نفرت انگیز تقاریر (ہِیٹ اسپیچ) ریکارڈ کی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “ہجوم کے تشدد، دھمکانے اور مذہبی مقامات پر حملے اب استثنائی واقعات نہیں رہے، بلکہ معمول بن چکے ہیں۔” تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف اقلیتی برادریوں کی فوری سلامتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ انہیں اپنے مذہب پر کھل کر عمل کرنے سے بھی روک رہا ہے۔
ریاستی اعتبار سے صورتحال
اتر پردیش: 36 واقعات
چھتیس گڑھ: 17 واقعات
مہاراشٹر: 14 واقعات
ان واقعات میں 41 جسمانی حملے، 31 جائیداد پر حملے اور 19 مذہبی مقامات (مساجد، چرچ، مزارات) پر حملے شامل ہیں۔ اسی عرصے میں 7 مسلمان ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔
اسی دوران 102 نفرت انگیز تقاریر بھی ریکارڈ ہوئیں۔ زیادہ تر تقاریر اور عوامی بیانات میں اقلیتوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس طرح کی زبان براہ راست سماجی کشیدگی اور تشدد کو ہوا دیتی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ملک میں نفرت عام ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور انتظامیہ نے فوری اور سخت اقدامات نہ کیے تو سماجی ہم آہنگی پر گہرا زخم لگے گا اور جمہوری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچے گا۔
تنظیم APCR کی رپورٹ واضح اشارہ کرتی ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتیں مسلسل غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ تین مہینوں میں 141 ہِیٹ کرائم اور 102 ہِیٹ اسپیچ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس بڑھتے ہوئے بحران کی تصویر ہیں جو معاشرتی برابری اور اعتماد کی بنیاد کو کمزور کر رہا ہے۔