انصاف ٹائمس ڈیسک
اتر پردیش میں “I Love Muhammad” مہم کے تنازع کے درمیان، وارانسی کے اسّی گھاٹ پر شام کی گنگا آرتی کے دوران کچھ لوگوں نے “I Love Mahadev”، “I Love Yogi” اور “I Love Bulldozer” جیسے پوسٹر لہراتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس واقعے نے ریاست میں مذہبی اور سیاسی ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔
اسّی گھاٹ پر، جہاں مقامی لوگ اور سیاح بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں، شام کی گنگا آرتی کے دوران یہ پوسٹرز سامنے آئے۔ “I Love Mahadev” پوسٹر کو “I Love Muhammad” مہم کا جواب سمجھا جا رہا ہے، جبکہ “I Love Bulldozer” پوسٹر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی متنازعہ “بلڈوزر پالیسی” کی نمائندگی کرتا ہے۔ ناقدین اسے اقلیتی کمیونٹیز کے خلاف مظالم اور خوفزدہ کرنے کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اسی سلسلے میں لکھنؤ میں بھی “I Love Yogi” اور “I Love Bulldozer” پوسٹرز لگائے گئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی یوا مورچہ کے رہنما امت تریپتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوسٹر بدعنوانی اور قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی علامت ہیں۔ انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی اور نظم و ضبط سے متعلق ہے۔
دوسری جانب، سماج وادی پارٹی کے رہنما ایس ٹی حسن نے ان پوسٹرز کو بھڑکاؤ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ صحافی سَرایو پانی نے اسے مذہبی پولرائزیشن کی واضح مثال قرار دیا۔
ساتھ ہی، “I Love Muhammad” پوسٹرز کے حمایت میں کئی مسلم نوجوانوں کی گرفتاری نے ریاست میں احتجاج اور پولیس کارروائی کے واقعات کو بڑھا دیا ہے۔ سول سوسائٹی گروپوں نے ان گرفتاریوں کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے “I Love Muhammad” مہم کے حوالے سے وارننگ دی کہ جو لوگ سماج میں انتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے، انہیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اسے “غزوہِ ہند” جیسے نظریات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو “جہنم کا ٹکٹ” ملے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو حساسیت اور ضبط کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سماجی ہم آہنگی اور امن قائم رہے۔