انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کے ڈھاکہ اسمبلی حلقے میں تقریباً 78,000 مسلم ووٹروں کو غیر ملکی قرار دے کر ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی کوششوں کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ یہ معلومات ‘دی رپورٹرز کولیٹیو’ کی تحقیق میں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ووٹروں کو نشانہ بنانے کے لیے بی جے پی کے نام پر جعلی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
تحقیق کے مطابق، بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹوں نے ضلعی الیکشن افسر اور بہار کے چیف الیکشن افسر کو تحریری درخواستیں بھیجی تھیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ان مسلم ووٹروں کے پاس بھارتی شہریت کے دستاویزات نہیں ہیں۔ ان میں سے ایک درخواست بی جے پی کے ریاستی ہیڈکوارٹر کے خط پر اور دوسری ڈھاکہ کے بی جے پی رکن اسمبلی کے نجی معاون کے نام پر دائر کی گئی۔ ان درخواستوں میں 78,384 ووٹروں کے نام اور ان کے ایپک (EPIC) نمبر شامل تھے۔
ڈھاکہ کے الیکشن رجسٹریشن افسر نے کہا کہ ان ووٹروں کے دستاویزات باقاعدہ تصدیقی عمل کے دوران چیک کیے جائیں گے۔ تاہم، انہوں نے ان درخواستوں کی وصولی کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
ڈھاکہ اسمبلی حلقہ مسلم اور یادو ووٹروں کی تعداد کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ روایتی طور پر کانگریس اور بعد میں RJD کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے پون کمار جیسوال نے RJD کے امیدوار کو 10,114 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کی کوششیں جمہوری عمل میں مداخلت اور ووٹروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ان درخواستوں کی سنجیدگی سے جانچ کر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
اس معاملے کے بعد سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے کیونکہ ڈھاکہ اسمبلی حلقے کے آئندہ انتخابات پر ان واقعات کا براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔