انصاف ٹائمس ڈیسک
تمِل ناڈو حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک نئے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت ریاستی وقف بورڈ قائم نہیں کیا جائے گا۔ اس اقدام کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے بروقت، مناسب اور جراتمندانہ قرار دیا ہے۔
ریاست کے وزیر برائے اقلیت امور ایس۔ایم۔ نصر نے پریس بیان میں بتایا کہ تامل ناڈو حکومت نہ صرف اس ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کرتی ہے بلکہ اسے سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک ریاست حکومت نئے قانون کے تحت بورڈ کی بحالی نہیں کرے گی اور پرانے بورڈ کی مدت ختم ہونے پر اسے برقرار رکھا جائے گا۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے بلکہ بھارتی آئین کے سیکولر اور جمہوری اقدار کے تحفظ میں بھی مددگار ہے۔ انہوں نے دیگر ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اپنے علاقوں میں اسی طرح کے فیصلے کر کے آئین کی روح کی پاسداری کریں۔
ڈاکٹر الیاس نے آخر میں وزیراعلیٰ ایم۔کے۔ اسٹالن کو اس جراتمندانہ اقدام پر AIMPLB، بھارت کے مسلمانوں اور تمام انصاف پسند شہریوں کی طرف سے مبارکباد پیش کی۔
ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے تمل ناڈو میں وقف بورڈ کے قیام کے معاملے میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک وضاحت برقرار رہے گی اور ریاست میں وقف جائیدادوں کے انتظام میں استحکام آئے گا۔