انصاف ٹائمس ڈیسک
کشی نگر کے بھیوَل پٹی گاؤں میں پارکنگ کے تنازعے نے تشدد کی شکل اختیار کر لی، جب ایک مسلم نوجوان کو سڑک پر کھڑی اپنی پک اپ ہٹانے کے لیے کہا گیا۔ یہ معمولی تنازعہ بعد میں سنگین صورت اختیار کر گیا اور نوجوان کو رسیوں سے باندھ کر بے رحمی سے پیٹا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، رتیش نامی مقامی رہائشی نے اظہرالدین سے کہا کہ وہ اپنی پک اپ سڑک سے ہٹا دے، جو وہاں کھڑی تھی۔ اس پر دونوں کے درمیان بحث ہوئی جو بعد میں ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ الزام ہے کہ اس جھڑپ کے دوران اظہرالدین نے رتیش پر چاقو سے حملہ کیا، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد رتیش کے رشتہ دار اور گاؤں والے موقع پر پہنچے اور اظہرالدین کو پکڑ کر رسیوں سے باندھ دیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ اظہرالدین کو زمین پر گھسیٹا جا رہا ہے اور بھیڑ اسے بے رحمی سے پیٹ رہی ہے۔ گواہوں کے مطابق رتیش کی ماں بھیڑ سے اسے چھوڑنے کی درخواست کر رہی تھی، لیکن کسی نے نہیں سنی۔
حادثے کے بعد پولیس نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وشن پورا تھانہ کے افسر راجیو سنگھ نے کہا کہ وائرل ویڈیو کی جانچ کی جا رہی ہے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے صبر و تحمل اور امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔
اس واقعے نے علاقے میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ مسلم تنظیموں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیت علماء ہند نے کہا کہ پولیس کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ قانون سب کے لیے یکساں طور پر لاگو ہو، ورنہ ہجومیت کو فروغ ملے گا۔
مقامی رہائشی محمد سلیم نے کہا، “یہ منظر انتہائی خوفناک تھا۔ اسے جانور کی طرح باندھ کر پیٹا گیا۔ یہ انصاف نہیں ہے۔ اگر کوئی تنازعہ تھا تو پولیس کو مداخلت کرنی چاہیے تھی، نہ کہ بھیڑ کو۔”
یہ واقعہ نہ صرف ایک ذاتی تنازعے کا نتیجہ ہے بلکہ یہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور ہجومیت کی فکر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور معاشرے میں امن و ہم آہنگی قائم رکھنے کے لیے پولیس کی فوری اور غیرجانبدارانہ کارروائی ضروری ہے۔