امریکہ میں تلنگانہ کے سافٹ ویئر انجینئر کو پولیس کی فائرنگ سے موت، خاندان نے نسلی امتیاز کا الزام لگایا

انصاف ٹائمس ڈیسک

تلنگانہ کے محبوب نگر ضلع کے 29 سالہ سافٹ ویئر انجینئر محمد نظام الدین کو 3 ستمبر کو امریکہ کے سانتا کلارا میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق، نظام الدین اپنے روم میٹ پر چھری سے حملہ کر رہے تھے اور حکام کی متعدد وارننگ کے باوجود نہیں رکے، جس کے بعد پولیس نے خود حفاظتی اقدام کے طور پر فائرنگ کی۔

تاہم، نظام الدین کے خاندان نے اس واقعے کو نسلی امتیاز اور پولیس کی زیادتی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد امریکہ میں نسلی ہراسانی اور کام کی جگہ پر امتیازی سلوک کا شکار تھے۔

نظام الدین نے اپنے لنکڈ اِن پوسٹ میں لکھا تھا کہ انہیں نسلی نفرت، ہراسانی، اجرت میں دھوکہ اور ناجائز برطرفی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ گوگل میں کام کے دوران اور EPAM سسٹمز کے ذریعے روزگار کے دوران مسلسل امتیاز اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

نظام الدین کے والد، محمد حسن الدین، نے وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر اور تلنگانہ کے وزیراعلیٰ سے اپنے بیٹے کی میت محبوب نگر لانے اور کیس کی منصفانہ تحقیقات کروانے کی اپیل کی ہے۔ بھارتی قونصل جنرل، سان فرانسسکو نے بھی خاندان سے رابطہ کیا اور ہر ممکن قونصلر معاونت دینے کا یقین دلایا ہے۔

سانتا کلارا پولیس چیف کوری مورگن نے کہا کہ افسران نے نظام الدین کو اس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے روم میٹ کے قریب چھری کے ساتھ موجود تھے اور متعدد وارننگ کے باوجود نہیں رکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نسلی امتیاز، کام کی جگہ پر ہراسانی اور پولیس کے اقدامات پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ خاندان اور کمیونٹی انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے اور کیس کی منصفانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور