انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کی سیاست میں ان دنوں ووٹر لسٹ سے نام کاٹنے کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سی پی آئی (مالے) کے جنرل سکریٹری کامریڈ دیپانکر بھٹاچاریہ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی اور اس کے بی ایل اے پر الزام لگایا کہ وہ غریبوں، دلتوں اور مسلمانوں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے حذف کرانے کی “سازش” رچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز دبانے اور جمہوریت کو کمزور کرنے کے راستے پر چل رہی ہے۔
دیپانکر نے کہا کہ بہار میں نوجوانوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بے روزگاری اور برطرفیوں سے پریشان نوجوان جب اپنی مانگوں کو لے کر بی جے پی دفتر پہنچے تو ان پر وحشیانہ لاٹھی چارج کیا گیا۔ “حکومت لاٹھی ڈنڈے کی زبان چھوڑ کر جمہوری طریقے سے بات کرے۔ بہار کو نیپال مت بنائیے، یہاں جمہوریت ہے،”۔
انہوں نے نیپال کی موجودہ سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں حالات بگڑنے پر وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا پڑا اور پارلیمنٹ میں آگ زنی تک کی نوبت آ گئی۔ “یہ عبوری دور ہے، لیکن نیپال بادشاہت کی طرف نہیں جائے گا۔ جمہوریت کا تحفظ لازمی ہے۔”
مالے جنرل سکریٹری نے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے اس بیان پر بھی اعتراض کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “نیپال بھارت میں شامل نہیں ہوا، اس لیے آج کی صورتحال پیدا ہوئی۔” دیپانکر نے کہا کہ ایسے بیانات بھارت اور پڑوسی ملک کے رشتوں کو کمزور کرتے ہیں۔ “بہار تو اپنے حالات نہیں سنبھال پا رہا اور بات کر رہا ہے نیپال کی۔”
سی پی آئی (مالے) نے دعویٰ کیا کہ پہلے مرحلے میں ہی تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام لسٹ سے کاٹ دیے گئے تھے اور اب ڈرافٹ لسٹ سے نام ہٹانے کی سازش چل رہی ہے۔ الزام ہے کہ بی جے پی کے ایم ایل اے اور بی ایل اے اس کام میں سرگرم ہیں۔
مثال کے طور پر، آرا اسمبلی حلقہ کے بی جے پی ایم ایل اے امرندر پرتاپ سنگھ اور پارٹی کے بی ایل اے نے بوتھ نمبر 368 اور 369 سے 220 غریب ووٹروں کے نام حذف کر کے انہیں سندیش اسمبلی حلقہ میں منتقل کرنے کی درخواست دی۔ اسی طرح بوتھ نمبر 156 پر بی جے پی بی ایل اے منیش کمار نے 93 غریب ووٹروں کے نام کاٹنے کی عرضی دی جسے مالے کے بی ایل اے کی مداخلت سے خارج کرا دیا گیا۔
مالے کا کہنا ہے کہ صرف آرا میں ہی 63 بوتھوں سے 887 ووٹروں کے نام کاٹنے کی درخواست دی گئی ہے لیکن انتظامیہ انہیں دعویٰ و اعتراض کی فہرست میں ظاہر تک نہیں کر رہا۔ پارٹی نے انتباہ دیا کہ غریب اور حاشیے پر کھڑے طبقات کے ووٹنگ حقوق سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں مالے کے ریاستی سکریٹری کنال، دھیرندر جھا، شیو پرکاش رنجن، قیام الدین انصاری اور ابھیودے بھی موجود تھے۔