انصاف ٹائمس ڈیسک
جب بھی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کا ذکر آتا ہے تو 1857 کی بغاوت ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس بغاوت نے صرف تلوار ہی نہیں بلکہ قلم کے ذریعے بھی انگریز حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔ اس جدوجہد میں ایک ایسا نام درج ہے جس نے صحافت کو عوام کی آواز بنایا اور اس راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔ یہ نام ہے — مولوی محمد باقر، جنہیں ہندوستانی صحافت کا پہلا شہید مانا جاتا ہے۔
مولوی باقر کی پیدائش تقریباً 1780 میں دہلی میں ہوئی۔ انہوں نے عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی اور مغربی خیالات سے بھی واقفیت پیدا کی۔ دہلی اس وقت فکری مرکز تھا اور اسی ماحول نے ان کے نظریات کو نئی سمت دی۔
1835 میں مولوی باقر نے دہلی اردو اخبار کی بنیاد رکھی۔ اُس دور میں زیادہ تر اخبارات انگریز حکومت کی خوشامد کرتے تھے، لیکن باقر کا اخبار مختلف تھا۔ انہوں نے کسانوں، کاریگروں اور عام لوگوں کے مسائل کو اجاگر کیا اور انگریزوں کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ دہلی کی گلیوں میں کہا جاتا تھا: “بھائی، باقر کا اخبار پڑھ لو، سب حقیقت سمجھ آ جائے گی۔”
مئی 1857 میں جب سپاہیوں کی بغاوت دہلی پہنچی تو دہلی اردو اخبار مجاہدین کا ترجمان بن گیا۔ مولوی باقر نے لکھا کہ یہ جنگ صرف بادشاہ کی گدی کے لیے نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی آزادی کے لیے ہے۔ ان کے مضامین نے عوام کو بغاوت کے لیے ابھارا۔ انگریز افسر جنرل ہڈسن نے رپورٹ دی: “دہلی کا اخبار لوگوں کو بھڑکا رہا ہے، اسے روکو۔”
ستمبر 1857 میں انگریزوں نے دہلی پر دوبارہ قبضہ کیا۔ باغیوں کی فہرست بنی اور اس میں مولوی باقر کا نام شامل تھا۔ انہیں بغیر مقدمہ چلائے چاندنی چوک میں گولی مار دی گئی۔ اس وقت ان کی عمر 77 برس تھی۔ ہجوم خاموش کھڑا رہا مگر آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ شہادت ثابت کر گئی کہ قلم کی طاقت تلوار سے کم نہیں ہوتی۔
ماہرینِ تاریخ مانتے ہیں کہ مولوی باقر کی قربانی نے ہندوستانی صحافت کو نئی پہچان دی۔ ان کے بعد گنیش شنکر ودیارتھی، بال گنگا دھر تلک اور مہاتما گاندھی جیسے بڑے نام سامنے آئے، لیکن سب سے پہلا اور روشن نام مولوی باقر ہی کا رہا۔
آج جب ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، تب بھی صحافت کی آزادی اور صحافیوں کی حفاظت سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ مولوی باقر کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحافت اقتدار کی خدمت نہیں بلکہ عوام کی آواز ہے — اور اس راہ میں کبھی کبھی جان بھی دینی پڑتی ہے۔
مولوی محمد باقر — ہندوستانی صحافت کے پہلے شہید۔