ہاؤڑا، مغربی بنگال میں 17 سالہ طالبہ کے مبینہ اغوا نے سماجی اور انتظامی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعہ میں خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی پولیس نے شکایت کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
خاندان کے مطابق، طالبہ کو دو نوجوان، راجہ اور ڈکووا، نے اغوا کیا، جو مبینہ طور پر اس سے شادی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لڑکی کی والدہ گلشن بیگم نے بتایا کہ شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر لڑکی کو مسلسل دباؤ اور دھمکیاں دی گئی تھیں۔
بیگم نے کہا، “لڑکا اور اس کا چچا کہہ رہے تھے کہ اگر تم ہماری شادی کے لیے تیار نہیں ہو تو ہم تمہاری بیٹی لے جائیں گے۔” خاندان نے شادی کی پیشکش اس لیے رد کی کہ لڑکی 17 سال کی ہے اور اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی ہے۔
واقعہ کے بعد لڑکی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ گلشن بیگم نے بتایا، “ہم نے 22 جنوری کو پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی، مگر دو دن گزرنے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔”
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملزمان اور ان کے ساتھیوں نے ایف آئی آر واپس لینے کے لیے انہیں دھمکایا۔ بیگم نے کہا، “ہم غریب ہیں اور ہر جگہ بھٹک رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ خاموش ہے۔”
جگاچا پولیس اسٹیشن میں بھارتی فوجداری ضابطہ کی دفعات 137(20) اور 140(3) کے تحت اغوا اور جبری نکاح کے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق فی الحال نہ طالبہ کا اور نہ لڑکے کا کوئی سراغ ملا ہے۔ ایک پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ وہ لڑکے کے موبائل کو ٹریک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو فی الحال بند ہے۔