مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں کولکاتا میں واقع سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ریاستی دفتر میں ایک اہم کثیر الجماعتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کئی علاقائی اور قومی سطح کی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم)، جنتا اِنّیان پارٹی (جے یو پی)، آزاد سماج پارٹی (اے ایس پی)، آئی یو ایم ایل، آئی این ایل، مولنواسی پارٹی اور آئی ایس ایف کے نمائندے شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، تنظیمی مضبوطی، ممکنہ انتخابی تال میل اور مشترکہ کم از کم پروگرام جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکائے اجلاس نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس کے خلاف ایک “متبادل سیاسی پلیٹ فارم” تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اگرچہ کسی باضابطہ اتحاد کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ باہمی مشاورت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
اجلاس کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (سی پی آئی ایم) اور انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے ساتھ بھی تال میل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
حال ہی میں مرشدآباد میں منعقدہ ایس ڈی پی آئی کے ایک پروگرام میں سی پی آئی ایم رہنماؤں کی موجودگی کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ شرکت ریاستی سکریٹری محمد سلیم کی ہدایت پر ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ جے یو پی قیادت اور محمد سلیم کے درمیان الگ ملاقات بھی ہوئی، جس میں ریاست کی سیاسی صورتحال اور ممکنہ تعاون پر گفتگو کی گئی۔
دوسری جانب ایس آئی آر (اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن) کے مسئلے پر ایس ڈی پی آئی اور آئی ایس ایف پہلے ہی مشترکہ پریس کانفرنس کر چکے ہیں، جس میں ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر نام خارج کیے جانے کے خدشات پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
ادھر بھارتیہ نیشنل کانگریس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں آزاد حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تنظیم کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے اور اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کانگریس کے اس موقف سے اپوزیشن خیمے کی تصویر 2021 کے مقابلے میں مختلف ہو سکتی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس، سی پی آئی ایم، آئی ایس ایف اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں نے مشترکہ طور پر انتخاب لڑا تھا، تاہم اتحاد کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اور صرف آئی ایس ایف ایک نشست جیت سکی تھی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایس ڈی پی آئی دفتر میں ہونے والا یہ اجلاس اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مکالمے اور ممکنہ نئی صف بندی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کسی باضابطہ عظیم اتحاد کا اعلان نہیں ہوا، لیکن مسلسل ملاقاتوں اور مشترکہ پروگراموں سے اشارے مل رہے ہیں کہ 2026 سے قبل بنگال کی سیاست میں نئے سیاسی مساوات جنم لے سکتے ہیں۔
آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ مشاورتیں باقاعدہ انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کرتی ہیں یا محض مسئلہ بنیاد تعاون تک محدود رہتی ہیں۔