سماج وادی پارٹی کے رہنما شیو راج سنگھ یادو کے متنازعہ بیان نے دوبارہ سے اتر پردیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دسمبر 2025 میں فیروز آباد کے سریساگنج اسمبلی حلقہ کے ڈیڑھیامائی گاؤں میں منعقدہ پی ڈی اے پاتھشالا پروگرام کے دوران یادو نے ہندو شناخت کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “میں ہندو نہیں، میں یادو ہوں”، اور ذات پر مبنی امتیاز پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔
شیو راج سنگھ یادو نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے مذہب کو نہیں مانتے جو انسان کو پیدائش یا ذات کے لحاظ سے کمتر سمجھے۔ انہوں نے منو سمھرتی کا حوالہ دیتے ہوئے برہمن، کشتریہ، ویشیا اور شودھروں کی طبقاتی تقسیم پر سوال اٹھایا اور کہا، “برہمن ہم نہیں، کشتریہ ہم نہیں، ویشیا ہم نہیں — صرف شودر بچتا ہے۔” ان کے مطابق ایسے مذہبی و سماجی ڈھانچے کو اپنانا مشکل ہے جو انسانوں کو برابری کے حقوق سے محروم رکھتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندو مذہب کو اپنانا “ضروری نہیں” اور خود کو “سب سے پہلے انسان” قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ بی جے پی کی قیادت والی مرکز اور اتر پردیش کی حکومتیں دلتوں، پچھڑوں اور اقلیتیوں کے خلاف سب سے زیادہ ظلم کرتی ہیں اور اقتدار صرف چند پرانے گروہوں کے ہاتھ میں ہے، جبکہ تقریباً 90 فیصد آبادی ذات اور مذہب کی بنیاد پر حکومتی نظام سے باہر ہے۔
شیو راج کے اس بیان نے سیاسی تنازع کو ہوا دے دی ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں نے ان پر “ہندو یکجہتی توڑنے” کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور سماج وادی پارٹی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ تاہم شیو راج سنگھ یادو نے تنازع کے دوران وضاحت دی اور دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کو “سیاق و سباق سے ہٹا کر” پیش کیا گیا اور یہ “بدنام پرچار” کا حصہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات آئندہ انتخابات کے ماحول میں سیاست کو مزید گرم کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ذات پر مبنی سیاست اور شناخت کے مسائل پہلے سے ہی اتر پردیش کی سیاست میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔