انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کے ضلع پورنیہ میں جمعہ کی صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ جَوگبنی-داناپور وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کی ٹکر سے چار نوجوان جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ یہ حادثہ صبح تقریباً چار بجے کسبا اسٹیشن گُمٹی کے قریب پیش آیا۔
اطلاع کے مطابق تمام نوجوان دسرہ میلے دیکھ کر ریلوے لائن کے راستے پیدل پورنیا واپس جا رہے تھے۔ اندھیرے اور لاپرواہی کی وجہ سے وہ ٹرین کو آنے سے نہیں دیکھ سکے اور تیز رفتار وندے بھارت ایکسپریس کی زد میں آ گئے۔
حادثے میں تین نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ دو کو شدید حالت میں پورنیا رائے جنک میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران ایک اور نوجوان نے دم توڑ دیا۔ فی الحال ایک نوجوان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
حادثے کی خبر ملتے ہی مقامی لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے آر پی ایف اور کاسبا تھانہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
کسبا تھانہ کے چوکی دار ایم ڈی حبیب اللہ نے بتایا کہ جاں بحق اور زخمی تمام نوجوان مکانا پھوڑنے کا کام کرتے تھے اور مقامی سطح پر کمائی کر کے اپنے خاندان کا سہارا بنے ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 15 ستمبر کو ہی جَوگبنی-داناپور وندے بھارت ایکسپریس کو ورچوئل ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔ اس ٹرین کا آغاز سیماںچل کو راجدھانی پٹنہ سے تیز رفتار اور جدید سہولیات کے ساتھ جوڑنے کے لیے کیا گیا تھا۔
حادثے کے بعد مقامی لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیز رفتار ٹرینوں کے باوجود ریلوے ٹریک پر مناسب حفاظتی انتظامات اور رکاوٹیں نہیں لگائی گئی ہیں۔ گاؤں والوں کا الزام ہے کہ لاپرواہی اور ناکافی انتباہی نظام کی وجہ سے بار بار ایسے حادثات رونما ہو رہے ہیں۔
یہ حادثہ ایک بار پھر ریلوے ٹریک پر حفاظتی انتظامات اور عوامی شعور پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔