اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ ختم: جولائی 2026 سے تمام مدارس میں ریاستی بورڈ کا نصاب لازمی

انصاف ٹائمس ڈیسک

اتراکھنڈ حکومت نے اقلیتی تعلیم بل 2025 کو نافذ کر کے ریاست کے تعلیمی نظام میں ایک بڑا بدلاؤ کیا ہے۔ گورنر کی منظوری کے بعد اب مدرسہ بورڈ ایکٹ 2016 اور عربی-فارسی مدرسہ منظوری ضوابط 2019 دونوں قوانین جولائی 2026 سے ختم ہو جائیں گے۔

اس کے ساتھ ہی اتراکھنڈ ملک کی دوسری ریاست بن گئی ہے جس نے مدرسہ بورڈ کو ختم کر دیا ہے۔ اس سے پہلے آسام میں یہ قدم اٹھایا جا چکا ہے۔

نئے قانون کے تحت ریاست کے تمام مدارس کو اتراکھنڈ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (UBSE) سے منسلک ہونا لازمی ہوگا۔
ساتھ ہی، تمام اداروں کو ریاستی حکومت کے مقرر کردہ نصاب کو اپنانا ہوگا، جس میں ریاضی، سائنس اور معاشرتی علوم جیسے مضامین لازمی طور پر شامل کیے جائیں گے۔

حکومت کے مطابق یہ اقدام تعلیم میں “یکسانیت، شفافیت اور معیار” لانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ریاست میں ایک نیا اقلیتی تعلیمی اتھارٹی (Minority Education Authority) بھی قائم کیا جائے گا، جو تمام اقلیتی تعلیمی اداروں کی منظوری، نگرانی اور معیار کی یقین دہانی کرائے گا۔

وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ “ریاست میں اب تعلیم کا ایک ہی ڈھانچہ ہوگا۔ مدارس کے طلبہ بھی وہی جدید تعلیم حاصل کریں گے جو دوسرے اسکولوں میں دی جاتی ہے۔ اس سے بچوں کو مستقبل میں مقابلے کے مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔”

ریاستی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ مدارس میں اب تک شفافیت کی کمی، غیر منظم فنڈنگ اور محدود نصاب جیسے مسائل تھے۔ نیا قانون ان تمام خامیوں کو دور کرے گا۔

دوسری جانب، کئی مسلم تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں نے اس فیصلے کو “اقلیتی حقوق پر حملہ” قرار دیا ہے۔
مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا کہ “جب پہلے سے مدرسہ بورڈ موجود تھا تو پھر نئی نظام کی ضرورت کیوں؟ یہ مذہبی تعلیم کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔”

اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت پر “مذہبی آزادی اور اقلیتی شناخت سے چھیڑ چھاڑ” کا الزام لگایا ہے۔
سول سوسائٹی کے کچھ ارکان نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 کے تحت دیے گئے اقلیتوں کے تعلیمی حقوق سے متصادم ہو سکتا ہے۔

آسام حکومت پہلے ہی اپنے مدرسہ بورڈ کو ختم کر کے وہاں کے مدارس کو سرکاری اسکولوں میں ضم کر چکی ہے، جہاں تقریباً 1,200 سے زائد مدارس کو عام اسکولوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔
اتراکھنڈ حکومت اب اسی طرز پر اپنے نئے قانون کو نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مدارس کو ریاستی بورڈ سے جوڑنا آسان نہیں ہوگا۔
زیادہ تر مدارس میں جدید مضامین پڑھانے کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ، لیبارٹریاں اور ڈیجیٹل وسائل موجود نہیں ہیں۔
جولائی 2026 تک تمام مدارس کو منسلک کرنے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد بغیر منظوری کے اداروں کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔

اتراکھنڈ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم تعلیم میں اصلاحات کی سمت ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہوگا،
لیکن مذہبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے مدرسہ نظام کی روح ختم ہو جائے گی۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ جولائی 2026 کے بعد اتراکھنڈ میں “نئی تعلیمی پالیسی” اور “قدیم روایت” کے درمیان توازن کیسے قائم ہوتا ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور