بہار کے چھ اضلاع میں دودھ پلانے والی خواتین کے دودھ میں یورینیم کی موجودگی — تحقیق کے بعد تشویش، لیکن ماہرین کا مشورہ: دودھ پلانا جاری رکھیں

بہار کے چھ اضلاع میں دودھ پلانے والی خواتین کے خون میں یورینیم کی موجودگی کی تصدیق کے بعد طبّی ماہرین اور انتظامی اداروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ یہ تحقیق مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر، پٹنہ نے بین الاقوامی سائنسی ٹیم کے اشتراک سے انجام دی ہے۔ تحقیق میں شامل تمام 40 نمونوں میں یورینیم کی موجودگی درج کی گئی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق نمونے اکتوبر 2021 سے جولائی 2024 کے درمیان بھو جپور، سمستی پور، بیگوسرائے، کھگڑیا، کٹیہار اور نالندہ میں رہنے والی خواتین سے حاصل کیے گئے۔ ٹیسٹ رپورٹوں میں یورینیم کی مقدار 0.13 مائیکروگرام فی لیٹر سے 5.29 مائیکروگرام فی لیٹر کے درمیان رہی، جبکہ سب سے زیادہ سطح کٹیہار میں پائی گئی۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیرِ زمین پانی پر انحصار کرنے والے علاقوں میں رہنے والے تقریباً 70 فیصد نوزائیدہ بچوں میں غیر سرطانی طویل مدتی صحت خطرات کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شیر خوار بچے یورینیم کو جسم سے اتنی تیزی سے خارج نہیں کر پاتے جتنے بالغ افراد، جس کی وجہ سے گردوں اور اعصابی نظام کی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم طبی ماہرین نے اس تحقیق کے تناظر میں فوری خوف یا پریشانی کی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ نیشنل فزیکل لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دنیش کے. اسوال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحقیق میں پائی گئی مقدار عالمی ادارہ صحت (WHO) کے محفوظ معیار سے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا “ماں کو بچے کو دودھ پلانا بند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ماں کا دودھ محفوظ ہے اور بچوں کے لیے انتہائی فائدہ مند بھی۔”

ادھر تحقیق کاروں نے زیر زمین پانی کے معیار کی وسیع سطح پر جانچ، متاثرہ علاقوں میں صحت نگرانی اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تحقیق کے نتائج اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ بہار کے متعدد علاقوں میں زیر زمین پانی کا معیار ایک ابھرتا ہوا عوامی صحت مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے لیے فوری سرکاری اور سائنسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور