اُنّاؤ ریپ کیس: کلدیپ سینگر کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا، جیل میں ہی رہیں گے سینگر؛ دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک

اُنّاؤ ریپ معاملے کے مجرم اور سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کے اُس حکم پر روک لگا دی ہے، جس میں سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کی گئی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے میں سی بی آئی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عبوری روک عائد کر دی۔

سی بی آئی نے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی راحت کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی کا کہنا تھا کہ سینگر جیسے سنگین جرم کے مجرم کو سزا کی معطلی دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور اس سے سماج میں غلط پیغام جاتا ہے۔

سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل نے عدالت سے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عدلیہ کو متاثرہ خاتون کے حقوق اور وقار کو سب سے زیادہ ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُس متاثرہ لڑکی کے تئیں جواب دہ ہیں جس کے ساتھ انتہائی گھناؤنا جرم ہوا۔ اس پر چیف جسٹس نے واضح اشارہ دیا کہ عدالت ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے کے حق میں ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ آیا کلدیپ سنگھ سینگر کو لوک سیوک (عوامی خدمت گزار) مانا جائے گا یا نہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر جرم کے وقت ملزم ایک منتخب رکنِ اسمبلی تھا تو کیا لوک سیوک کا تصور لاگو نہیں ہوگا۔ سی بی آئی نے دلیل دی کہ ایم ایل اے جیسے آئینی عہدے پر فائز شخص پر عوام کا خاص اعتماد ہوتا ہے اور ایسے معاملات میں جرم کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

سی بی آئی نے اپنی عرضی میں لال کرشن آڈوانی معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رکنِ پارلیمنٹ یا رکنِ اسمبلی جیسے عوامی نمائندے لوک سیوک کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر سنگین غلطی کی کہ جرم کے وقت سینگر لوک سیوک نہیں تھے۔

سماعت سے قبل متاثرہ لڑکی اور اس کی والدہ سپریم کورٹ پہنچیں اور انصاف کی امید ظاہر کی۔ ادھر اس معاملے کو لے کر ویمن کانگریس کی کارکنوں نے سپریم کورٹ احاطے کے باہر احتجاج کیا، جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔

کلدیپ سنگھ سینگر کو اُنّاؤ ریپ معاملے میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے نچلی عدالت نے دسمبر 2019 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ سینگر اس وقت جیل میں سزا کاٹ رہا ہے۔ 23 دسمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اس کی سزا معطل کر دی تھی کہ وہ پہلے ہی سات برس سے زائد جیل میں گزار چکا ہے۔ اسی حکم کے خلاف سی بی آئی اور متاثرہ فریق سپریم کورٹ پہنچے تھے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل تین رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ حتمی فیصلے تک ہائی کورٹ کے حکم پر روک برقرار رہے گی۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور