امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی سخت پالیسی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے عوامی سطح پر کردوں کے ممکنہ احتجاج کی حمایت کی اور ایران سے بغیر شرط سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا۔
صدر کا پیغام: بغیر شرط سمجھوتہ نہیں
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ صرف “بغیر شرط سرنڈر” کے بعد ممکن ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو اقتصادی طور پر مضبوط اور مستحکم بنانے میں کام کریں گے، جسے انہوں نے “ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں” بھی کہا۔ صدر نے واضح کیا کہ امریکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھے گا اور قیادت کے بدلنے تک کسی سمجھوتے کی کوئی وقت حد نہیں ہوگی۔
کردوں کا کردار: احتجاج یا حکمت عملی؟
عراق کے شمالی کردستان میں موجود کرد گروہوں کی صورتحال پیچیدہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ہزاروں کرد جنگجو ایران میں کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
موستفا ہیزری، کرد رہنما اور ڈیماکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان کے سربراہ نے فوجیوں اور آئی آر جی سی کے اہلکاروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے خاندانوں کے پاس واپس جائیں اور حکومتی فوجی طاقتوں سے دور رہیں۔
کردستان ریجنل گورنمنٹ نے کہا کہ وہ کسی حملے میں فعال حصہ نہیں لیں گے اور خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں۔
امریکہ کی حکمت عملی اور سی آئی اے کا کردار
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، سی آئی اے کرد گروہوں کو ہتھیار فراہم کرنے اور احتجاج کے لیے تیار کرنے میں سرگرم ہے۔ مقصد ممکنہ طور پر یہ ہے کہ:
ایرانی سکیورٹی فورسز کو اندر سے تقسیم کیا جائے،
ایران کی فوجی صلاحیت کمزور کی جائے،
اور امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کو بڑھایا جائے۔
تاہم کرد رہنماؤں نے واضح کیا کہ بغیر فضائی تعاون اور حفاظتی ضمانت کے وہ اکیلے لڑائی میں نہیں اتریں گے۔
جنگ کا وسیع اثر
کرد علاقوں اور مغربی ایرانی صوبوں میں میزائل اور ڈرون حملے بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے امریکی ٹھکانوں اور حمایتی گروہوں پر جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی صرف فوجی تناؤ نہیں بڑھائے گی بلکہ پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام کو بھی مزید گہرا کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
سپین نے وائٹ ہاؤس کے بیان کی تردید کی کہ وہ امریکی فوجی آپریشنز میں تعاون کر رہا ہے۔ برطانیہ کی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس ایران کے لیے کوئی عملی منصوبہ نہیں ہے۔ سابق ایم.آئی ۶ سربراہ جان ساورز نے سی.این.این سے کہا، “یہ غیر ضروری جنگ ہے، امریکہ کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔” وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ فی الحال امریکہ ایران میں کوئی زمینی فوج تعینات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ممکنہ نتائج
اگر کرد براہ راست لڑائی میں شامل ہوتے ہیں تو ایران میں مخالفت بڑھ سکتی ہے، ایرانی فوج تقسیم ہو سکتی ہے اور پورے خطے میں طویل مدتی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ تاریخی طور پر بڑے ممالک کے حمایتی مقامی گروہ اکثر سیاسی کھیل میں پھنس جاتے ہیں اور بعد میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کا تنازعہ اب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ ٹرمپ کی “بغیر شرط سرنڈر” پالیسی، کردوں کا ممکنہ کردار اور خطے کے ردعمل عالمی سیاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔