انصاف ٹائمس ڈیسک
تلنگانہ میں الیکشن کمیشن (ECI) کی جانب سے ووٹر ڈیٹا، جس میں تصاویر بھی شامل ہیں، ریاستی حکومت کے ساتھ شیئر کرنے کے الزامات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹرز کلیکٹو کی تحقیق کے مطابق، 2019 میں ریاستی حکومت نے اس ڈیٹا کو نجی کمپنیوں کے ساتھ ملا کر مختلف سرکاری منصوبوں میں استعمال کیا۔
نومبر 2019 میں تلنگانہ حکومت نے پنشن یافتگان کی شناخت اور زندہ ہونے کی تصدیق کے لیے پینشنر لائیو ویریفکیشن سسٹم (PLVS) شروع کیا۔ اس پروجیکٹ میں حیدرآباد کی کمپنی Posidec Technologies Private Limited شامل تھی۔ RTI دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ Posidec نے “چار ویب سروسز تیار کیں اور انہیں T-App، الیکشن ڈیپارٹمنٹ کے EPIC ڈیٹا اور پنشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈیٹا بیس کے ساتھ مربوط کیا۔”
پنشنر سسٹم کے بعد ریئل ٹائم ڈیٹا آتھنٹیکیشن انیشی ایٹو (RTDAI) کا آغاز ہوا۔ اس میں پنشنرز کو اپنی شناخت اور زندگی کی تصدیق کے لیے سیلفی اپلوڈ کرنا پڑتی تھی۔ یہ ٹیکنالوجی بعد میں ڈگری آن لائن سروسز تلنگانہ (DOST) اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ جیسی دیگر خدمات میں بھی نافذ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ RTDAI سسٹم EPIC ڈیٹا کے ذریعے چہرے کی شناخت کرتا ہے، جس سے شہریوں کی شناخت کی تصدیق ممکن ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس کے کارکن، سرینیواس کوڈالی نے چیف الیکشن آفیسر (CEO) کو شکایتی خط لکھ کر الزام عائد کیا کہ ECI نے 2015 میں ووٹر ڈیٹا ریاستی حکومت کے ساتھ شیئر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے، جس میں آدھار اور ووٹر شناختی کارڈ کو جوڑنے پر پابندی تھی۔
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترہ نے کہا، “الیکشن کمیشن اور گنیش کمار دوبارہ جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ وہ بوتھ ویڈیو اور CCTV شیئر کرنے سے انکار کرتے ہیں، لیکن تلنگانہ کا پورا ECI ڈیٹا بیس نجی کمپنی Posidec کو دے دیا گیا۔” کانگریس رہنما راہول گاندھی نے بھی ECI اور بی جے پی پر ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے اور “ووٹنگ کی چوری” کے الزامات عائد کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف نے الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت کی ڈیٹا شیئرنگ کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پرائیویسی کی خلاف ورزی اور شہری حقوق کی پامالی جمہوریت کی ساکھ پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اب آزادانہ تحقیقات اور ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کی مانگ زور پکڑ گئی ہے۔