انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کی سیاست میں انتخابی گرمی تیز ہوتی نظر آ رہی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر و بہار کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو 16 ستمبر سے “بہار ادھیکار یاترا” کا آغاز کریں گے۔ پانچ روزہ یہ یاترا جہان آباد سے شروع ہو کر 20 ستمبر کو جمہوریت کی دھرتی ویشالی میں ختم ہوگی۔
آر.جے.ڈی کے صوبائی جنرل سکریٹری رنووجے ساہو نے ضلعی صدور، ارکان پارلیمان، ارکان اسمبلی اور دیگر عہدیداران کو خط جاری کر کے یاترا کی تیاریوں سے متعلق واضح ہدایات دی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یاترا کے دوران متعلقہ اسمبلی حلقوں میں پہلے سے طے شدہ مقامات پر عوامی مکالمہ (جن سنواد) کا اہتمام ہوگا، جہاں کارکنوں اور عوام کو بڑی تعداد میں شریک ہونا ہے۔
تیجسوی کی یہ یاترا جہان آباد، نالندہ، پٹنہ، بیگوسرائے، کھگڑیا، مدھےپورہ، سہرسا، سپول، سمستی پور اور ویشالی اضلاع سے گزرے گی۔ اس یاترا کا بنیادی مقصد بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت اور ووٹر حقوق جیسے مسائل پر عوام سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا ہے۔
یہ پہل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں راہل گاندھی نے ووٹر ادھیکار یاترا نکالی تھی۔ مہاگٹھ بندھن اسے عوام سے جڑنے اور این ڈی اے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ماحول بنانے کا ایک اہم ذریعہ قرار دے رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ یاترا اپوزیشن اتحاد کی انتخابی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے اور اس سے تیجسوی کو مہاگٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے میں مدد ملے گی۔
آر جے ڈی کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت نے روزگار، کسانوں کے مسائل اور تعلیم و صحت جیسے بنیادی سوالات پر سنجیدگی نہیں دکھائی۔ یاترا کے دوران تیجسوی ان سوالات کو عوام کے درمیان اٹھا کر این ڈی اے حکومت کی پالیسیوں کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔
تیجسوی یادو کی “بہار ادھیکار یاترا” آئندہ اسمبلی انتخابات 2025 کے پس منظر میں اپوزیشن مہاگٹھ بندھن کا ایک بڑا سیاسی داؤ ثابت ہو سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ عوام اس یاترا کو کس حد تک وسیع حمایت دیتے ہیں اور اس کا اثر انتخابی مساوات پر کیسا پڑتا ہے۔