انصاف ٹائمس ڈیسک
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بچوں کو جنسی تعلیم (Sex Education) نویں جماعت سے نہیں بلکہ کم عمر سے دی جانی چاہیے۔ جسٹس سنجے کمار اور آلوک آرادھے کی بینچ نے کہا کہ اسکولوں میں اس تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نوعمر بچے پیوبرٹی (Puberty) کے دوران جسمانی اور ہارمونی تبدیلیوں کو سمجھ سکیں۔
سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس ایک 15 سالہ نوجوان کے کیس میں دیے، جس پر انڈین پینل کوڈ (IPC) کی شق 376 (ریپ)، شق 506 (فوجداری دھمکی) اور POCSO ایکٹ کی شق 6 (سنگین جنسی ہراسانی) کے تحت الزام تھا۔ عدالت نے نوجوان کو جوانی انصاف بورڈ کی شرائط کے تحت ضمانت دینے کا حکم دیا۔
بینچ نے کہا “ہمارا ماننا ہے کہ بچوں کو جنسی تعلیم کم عمر سے دی جانی چاہیے، نہ کہ نویں جماعت سے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی صوابدید سے اصلاحی اقدامات کریں تاکہ بچے پیوبرٹی کے بعد ہونے والی تبدیلیوں اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ ہوں۔”
عدالت نے یہ بھی کہا کہ بچوں میں آگاہی کی کمی اکثر انہیں غلط فہمیوں اور سماجی دباؤ میں ڈال دیتی ہے۔
نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے تحت Comprehensive Sexuality Education (CSE) کو ریاستوں اور اسکولوں پر نافذ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، لیکن کئی جگہ یہ مکمل طور پر لاگو نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق، ابتدائی عمر سے جنسی تعلیم دینے سے بچے جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ملک میں POCSO (Protection of Children from Sexual Offences Act) 2012 میں بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ اس میں سخت سزاؤں کا انتظام ہے اور عموماً ضمانت ملنا مشکل ہوتا ہے۔
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ کئی بار خاندانی تنازعات، محبت کے تعلقات میں اختلافات یا زمین جائیداد کے جھگڑوں میں اس قانون کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے، جس سے ملزم کی سماجی ساکھ اور ذہنی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔
سیکس ایجوکیشن کی اہمیت
1.حفاظت اور آگاہی: بچے ‘Good Touch’ اور ‘Bad Touch’ کے فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔
2.غلط فہمیوں کا خاتمہ: جسم اور پیوبرٹی سے متعلق غلط تصورات کم ہوتے ہیں۔
3.ذہنی توازن: ہارمونی تبدیلیوں کے دوران بچے خوداعتماد رہتے ہیں۔
4.قانونی سمجھ بوجھ: بچے جان سکتے ہیں کہ کونسی کارروائی جرم ہے اور شکایت کیسے کی جائے۔
سپریم کورٹ کی یہ ہدایت تعلیم کی پالیسی اور سماجی رویوں میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عدالت نے حکومتوں اور تعلیم کے محکموں سے کہا کہ وہ اسکول کی سطح پر جنسی تعلیم کو لازمی کریں اور اس کے لیے سائنسی، حساس اور جامع نصاب تیار کریں۔