سپریم کورٹ نے اکولا دنگوں میں غیر فعال پولیس کو پھٹکارا، کہا- وردی پہننے کے بعد مذہب اور ذات کے تعصبات سے بالاتر ہو کر فرض ادا کریں

انصاف ٹائمس ڈیسک

مہاراشٹر کے اکولا میں مئی 2023 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہونے والے قتل اور پولیس کی غیر سنجیدگی پر سپریم کورٹ نے سخت ردعمل دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس افسران کو وردی پہننے کے بعد اپنے ذاتی اور مذہبی تعصبات کو پس پشت ڈال کر مکمل ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ فرائض انجام دینے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کی بینچ، جس میں جسٹس سنجے کمار اور جسٹس ستیش چندر شرما شامل ہیں، نے مہاراشٹر کے داخلہ محکمہ کو ہدایت دی کہ اکولا دنگے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے۔ اس SIT میں ہندو اور مسلم دونوں کمیونٹیوں کے سینئر پولیس افسران شامل ہوں گے اور تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔

اکولا فسادات کے دوران 39 سالہ بجلی کے کاریگر ولّاس گائیکواڑ کو قتل کیا گیا اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔ ایک 17 سالہ گواہ نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے اس کی گواہی پر توجہ نہیں دی اور FIR درج کرنے میں غفلت برتی۔ اس غیر سنجیدگی کے سبب معاملہ براہِ راست سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔

عدالت نے سخت الفاظ میں کہا “جب پولیس افسران وردی پہنتے ہیں، تو انہیں اپنے ذاتی، مذہبی، ذات پات یا کسی بھی قسم کے تعصب کو مکمل طور پر چھوڑ کر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ بدقسمتی سے، اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔”

سپریم کورٹ کا یہ حکم واضح پیغام دیتا ہے کہ پولیس کو خاص طور پر حساس حالات میں غیر جانبداری اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس افسران کو اپنی ذمہ داری کے مطابق فرائض انجام دینے ہوں گے اور کسی بھی قسم کے تعصب سے بچنا ہوگا۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور