مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسپین نے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپین کے سرکاری گزٹ میں جاری حکم نامے کے مطابق اسرائیل میں تعینات سفیر آنا ماریا سالومون پیریز کی تقرری ختم کر دی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تل ابیب میں قائم ہسپانوی سفارت خانے کی ذمہ داریاں اب ایک چارج ڈی افیئرز یعنی قائم مقام سفارت کار کے سپرد ہوں گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپین مسلسل غزہ جنگ اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں پر تنقید کرتا رہا ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کو “غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈرڈ کی واضح پالیسی “جنگ کے خلاف” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تنازعات کا حل سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ فوجی طاقت کے استعمال سے۔
اسپین یورپ کے ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ گزشتہ برس ہسپانوی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کرتے ہوئے اسرائیل کو ہتھیار، فوجی ساز و سامان اور ڈوئل یوز ٹیکنالوجی کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب اسپین نے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ اس اقدام کے بعد اسرائیل نے بھی میڈرڈ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران اسپین کا یہ اقدام یورپی سفارت کاری میں ایک مختلف مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے یورپی یونین کے اندر بھی اس مسئلے پر نئی بحث تیز ہو سکتی ہے۔