این ایس اے کے تحت سونم وانگچک کی حراست غیر قانونی اور بے بنیاد: اہلیہ گیتانجلی انگمو

لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت گرفتاری کو ان کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے ’’غیر قانونی، بے بنیاد اور کسی ٹھوس وجہ کے بغیر‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت بھی بخوبی جانتی ہے کہ یہ مقدمہ کمزور ہے، اسی لیے سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کو بار بار مؤخر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے گیتانجلی انگمو نے کہا کہ مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل مسلسل تاریخ پر تاریخ لیتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دانستہ اپنائی گئی تاخیری حکمتِ عملی ہے، کیونکہ حکومت کو اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اس معاملے میں کوئی قانونی وزن نہیں ہے۔

گیتانجلی انگمو نے کہا کہ انتظامیہ کی سنگین ’’طریقۂ کار سے متعلق خامیوں‘‘ کے باعث سونم وانگچک کو اب تک جیل میں رکھا گیا ہے، حالانکہ انہیں بہت پہلے رہا کیا جانا چاہیے تھا۔

قابلِ ذکر ہے کہ سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو لیہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری 24 ستمبر کو لیہ میں پیش آنے والے اس واقعے کے دو دن بعد ہوئی، جب لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور آئین کی چھٹی شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس فائرنگ میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پتھراؤ ہوا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر کے ساتھ ساتھ ایک پولیس گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔

مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ تشدد سونم وانگچک کے ’’اشتعال انگیز بیانات‘‘ کے سبب بھڑکا۔ تاہم ان کی اہلیہ نے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ گرفتاری کے بعد سونم وانگچک کو راجستھان کے جودھپور کی جیل منتقل کر دیا گیا۔

گرفتاری کے چند ہی دن بعد گیتانجلی انگمو نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے این ایس اے کے تحت جاری حراستی حکم کو چیلنج کیا اور اپنے شوہر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جن ایف آئی آرز کی بنیاد پر حراستی حکم جاری کیا گیا ہے وہ ’’پرانی، غیر متعلق اور بیرونی‘‘ ہیں، جن میں سے کئی میں سونم وانگچک کا نام تک درج نہیں ہے۔

انگمو نے اس معاملے کو ’’اوپن اینڈ شٹ کیس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں جمہوریت کی موجودہ صورتحال کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں اقتدار کا استعمال ان لوگوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے جو سماج اور ملک کے مفاد میں آواز اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر یہ سونم کے ساتھ ہو سکتا ہے تو یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ حراست کی بنیاد کے طور پر پیش کیے گئے حقائق نہایت پرانے ہیں۔ بعض الزامات ایسے ویڈیوز پر مبنی ہیں جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک سے ڈیڑھ سال پرانے ہیں۔ اس کے علاوہ، ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ حراستی حکم کو انہوں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی تجویز کی تقریباً ’’کاپی پیسٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں آزادانہ غور و فکر کا کوئی مؤثر عمل اختیار نہیں کیا گیا۔

سونم وانگچک کی گرفتاری اور این ایس اے کے تحت ان کی مسلسل حراست نے ایک بار پھر شہری حقوق، اختلافِ رائے کے جمہوری حق اور قومی سلامتی قوانین کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب اس معاملے میں سب کی نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور