چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے نمایاں چہروں میں شامل شرجیل امام کو حال ہی میں پہلی بار 10 دن کی عبوری ضمانت ملی۔ یہ راحت انہیں اپنے بھائی مزمل امام کی شادی میں شرکت کے لیے دی گئی تھی۔

عدالت کی جانب سے مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد شرجیل امام نے قانونی عمل کی پابندی کرتے ہوئے ایک بار پھر دہلی کی تہاڑ جیل میں خودسپردگی کر دی۔ یہ عبوری راحت ان کی طویل قید کے دوران پہلی ایسی اجازت تھی، جس نے انہیں اپنی ذاتی زندگی کے ایک اہم موقع میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔

شرجیل امام کو 28 جنوری 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا، جب ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے جاری تھے۔ ان پر بغاوت سمیت کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے، اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت بھی مقدمات درج کیے گئے۔ تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان کی تقاریر اور سرگرمیاں قومی سلامتی کے لیے چیلنج تھیں، جبکہ ان کے حامی ان الزامات کو اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں قرار دیتے رہے ہیں۔

امام کا معاملہ گزشتہ چھ برس سے عدالتوں میں زیرِ التوا ہے۔ اس دوران انہیں باقاعدہ ضمانت نہیں مل سکی، جس کے باعث عدالتی عمل کی سست روی اور طویل عرصے تک زیرِ سماعت قید کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے بارہا اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ بغیر حتمی فیصلے کے کسی شخص کا اتنے طویل عرصے تک جیل میں رہنا انصاف کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔

دوسری جانب، تفتیشی ایجنسیاں اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے سخت قوانین کے تحت کارروائی کو ضروری ٹھہراتی رہی ہیں۔

فی الحال، شرجیل امام کی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہو چکی ہے اور وہ دوبارہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ اب اس معاملے میں آئندہ سماعت، ممکنہ باقاعدہ ضمانت اور عدالتی عمل کی سمت پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد کی قانونی جدوجہد کی کہانی ہے بلکہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی، احتجاج کے حق اور سخت قوانین کے استعمال سے متعلق جاری وسیع بحث کا بھی ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور