
پٹنہ (سیف الرحمٰن/انصاف ٹائمس) دلّی شاہین باغ ایک بار پھر چرچہ میں ہے کیونکہ جس طرح سی. اے. اے کے خلاف تحریک کی بنیاد ڈالنے اور احتجاج ماڈل دینے کا کام شاہین باغ نے دیا تھا ویسے ہی کئی مہینوں سے دلّی یوپی اور ایم پی سمیت ملک کے الگ الگ علاقوں میں تجاوزات ہٹانے کے نام پر ہو رہے ٹارگیٹڈ بلڈوزرنگ کے خلاف بھی آج شاہین باغ نے اس وقت مثال پیش کر دیا جب بھاجپا نیتا کی مانگ پر میونسپل کارپوریشن دلّی کا بلڈوزر شاہین باغ تجاوزات ہٹانے پہونچا-مگر وہاں پہلے ہی لوگوں نے تجاوزات خود ہی ہٹا دیے تھے اور وہاں کی عوام سینکڑوں کی تعداد میں بلڈوزر کے سامنے آگئی اور اس وقت تک جمی رہی جب تک کہ بلڈوزر واپس نہیں گیا اور اس طرح ایک اور جہانگی پور بننے سے بچ گیا- ساتھ ہی ایک بار پھر جب شاہین باغ چرچہ میں آیا ہے تو اس بار بھی اسکی ہیرو شاہین باغ کی ایک بیٹی بن رہی ہے اور وہ ہے شاہین باغ کی مشہور سماجی کارکن و سپریم کورٹ کی وکیل اور بڑھتے قدم انڈیا تنظیم کی بانی ایڈوکیٹ عارفہ خانم جو کہ کانگریس پارٹی کی ایک سینئر کارکن بھی مانی جاتی ہے وہ پیر سے زخمی تھی لیکن اسی حالت میں سامنے آگئی اور گھنٹوں تک اس احتجاج میں لیڈنگ کردار نبھاتی رہی