26 جنوری کو ایک معمر مسلم دکاندار کے حق میں کھڑے ہونے کے بعد معاشی بائیکاٹ کا سامنا کرنے والے جم آپریٹر دیپک کمار کو اب ملک کی قانونی برادری کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے 15 سینئر وکلا نے ان کے جم کی ایک سالہ رکنیت لے کر مالی تعاون فراہم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں مفت قانونی امداد دینے کا بھی یقین دلایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 26 جنوری کو کوٹدوار میں ایک 70 سالہ مسلم دکاندار پر بعض افراد نے اپنی دکان کے نام سے “بابا” لفظ ہٹانے کا دباؤ ڈالا تھا۔ اسی دوران جم آپریٹر دیپک کمار نے مداخلت کرتے ہوئے دکاندار کی حمایت کی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کے خلاف آن لائن مہم اور احتجاجی ردِعمل سامنے آیا۔
واقعے سے قبل بدری ناتھ روڈ پر واقع ان کے ‘ہلک جم’ میں تقریباً 150 اراکین تھے، جو اب کم ہو کر محض 12 سے 15 رہ گئے ہیں۔ دیپک کمار ہر ماہ تقریباً 40 ہزار روپے جم کا کرایہ اور 16 ہزار روپے ہاؤسنگ لون کی قسط ادا کرتے ہیں۔ اراکین کی تعداد میں کمی کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ 31 جنوری کو کچھ افراد نے جم کے باہر جمع ہو کر احتجاج کی کوشش کی، جسے پولیس نے قابو میں کر لیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حق اور مخالفت میں مختلف ردِعمل دیکھنے کو ملے۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکلا نے پہل کرتے ہوئے فی کس 10 ہزار روپے کے حساب سے ایک سالہ رکنیت حاصل کی ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ وہ دیپک کمار کو قانونی کارروائی میں ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ اس اقدام کے بعد اب تک 20 سے زائد وکلا اس مہم سے جڑ چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں افراد نے رکنیت لے کر تعاون کی اپیل کی ہے۔ بعض لوگوں نے آن لائن فٹنس سیشن شروع کرنے کی تجویز دی ہے اور اس میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے۔
پولیس کے مطابق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔