سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی سکریٹری تایید الاسلام نے مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بڑے پیمانے پر ناموں کی تنسیخ ۲۰۲۶ کے اسمبلی انتخابات سے قبل “منظم حقِ رائے دہی کی پامالی” کی علامت ہے۔
پارٹی کے مطابق حالیہ سماعتوں کے بعد ۶ء۶۱ لاکھ سے زائد مزید ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ اس سے پہلے ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵ کو جاری کردہ مسودہ فہرست میں ۵۸ لاکھ نام غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی یا مکرر زمروں میں حذف کیے گئے تھے۔ ۱۴ فروری ۲۰۲۶ کو اختتام پذیر ہونے والی سماعتوں کے بعد مجموعی حذف شدہ ناموں کی تعداد تقریباً ۶۵ لاکھ تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تایید الاسلام نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی معمول کی نظرِ ثانی کے نام پر چلائی گئی یہ مہم لاکھوں افراد، خصوصاً مسلمانوں، غریبوں اور دیگر محروم طبقات کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام ایک مخصوص جماعت کی انتخابی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً پانچ لاکھ ووٹروں کو مناسب نوٹس دیے بغیر غیر حاضر قرار دے کر خارج کر دیا گیا، جبکہ ۱ء۶۳ لاکھ افراد کو سرسری جانچ کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق ہجرت، دیہی علاقوں کی مشکلات اور دستاویزی رکاوٹوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شمالی و جنوبی ۲۴ پرگنہ، مرشد آباد اور مالدہ جیسے مسلم اکثریتی اضلاع کے علاوہ کولکاتا کے بعض حصوں میں حذف شدہ ناموں کا اثر زیادہ دیکھا گیا۔ ہجے میں معمولی فرق، شادی کے بعد نام کی تبدیلی اور اعداد و شمار میں عدم مطابقت کو بنیاد بنا کر شہریوں کو “ناقابلِ سراغ” یا “فرضی” قرار دینا تشویشناک ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے نظرِ ثانی کے عمل پر فوری روک، حذف شدہ ووٹروں کی عارضی بحالی اور تمام سیاسی جماعتوں کی نگرانی میں شفاف دوبارہ تصدیق کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے عدالتی مداخلت پر زور دیتے ہوئے انتخابی جمہوریت کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع جمہوری اتحاد کی اپیل بھی کی ہے۔