دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں فیضِ الٰہی مسجد کے قریب بلدیہ کی جانب سے کی گئی انہدامی کارروائی پر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے اس کارروائی کو وقف جائیداد پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم قانونی خامیوں اور انتظامی لاپروائی کا نتیجہ ہے۔
پارٹی کے قومی نائب صدر محمد شفیع نے اپنے بیان میں کہا کہ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں بارہ نومبر دو ہزار پچیس کو حکم صادر کیا تھا، حالانکہ انیس سو ستر کے گزٹ نوٹیفکیشن میں متعلقہ زمین کو واضح طور پر وقف جائیداد کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود دہلی وقف بورڈ کو مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا اور نہ ہی اس حکم کے خلاف کوئی نظرِ ثانی درخواست دائر کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا کر مسجد کی زمین کے مالکانہ حق سے متعلق فیصلہ کیا، جس کی بنیاد پر بلدیہ نے سات جنوری دو ہزار چھبیس کی صبح انہدامی کارروائی شروع کی۔ پارٹی کے مطابق اس کارروائی سے وقف املاک کو نقصان پہنچا اور مقامی سطح پر بے چینی کی صورت حال پیدا ہوئی۔
پارٹی نے اس واقعے کو ایک وسیع تر رجحان سے جوڑتے ہوئے الزام لگایا کہ حکمراں جماعت کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں وقف بورڈ اکثر عدالتوں کے سامنے حقائق مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی معاملات بغیر کسی مؤثر پیروی کے رہ جاتے ہیں اور مذہبی املاک پر تنازعات کھڑے ہو جاتے ہیں۔
پارٹی نے وقف ایکٹ کے موجودہ نفاذ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس قانون کو وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے لایا گیا تھا، اسی کا استعمال مساجد، قبرستانوں اور سماجی اداروں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ مقام پر فوری طور پر جوں کی توں صورتِ حال بحال کی جائے، انہدامی کارروائی کے ذمہ دار افسران کی جواب دہی طے کی جائے اور وقف جائیداد کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی وقف اراضی کے تحفظ کے لیے اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
پارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان واقعات کو سنجیدگی سے سمجھیں اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔