ایس.ڈی.پی.آئی کی ’وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل‘ کی مخالفت، کہا— اعلیٰ تعلیم کے مرکزیت سے وفاقی ڈھانچہ کمزور ہوگا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے لوک سبھا میں پیش کیے گئے وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل، 2025 کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ یہ بل تعلیمی آزادی، ریاستوں کے اختیارات اور سماجی شمولیت کو نقصان پہنچائے گا اور تعلیم کے شعبے میں حد سے زیادہ مرکزیت کو فروغ دے گا۔

ایس ڈی پی آئی نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ مرکزی حکومت اس بل کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق اصلاحی قدم کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن اس کی اصل ساخت دہائیوں سے قائم اعلیٰ تعلیم کے قانونی اور ادارہ جاتی نظام کو کمزور کرنے والی ہے۔

پارٹی نے خاص طور پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ایکٹ 1956، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن ایکٹ 1987 اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن ایکٹ 1993 کو ختم کرکے ان سب کو ایک مرکزی ادارے—وکست بھارت شکشا ادھشٹھان—کے تحت لانے کی تجویز پر شدید اعتراض کیا ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے قومی نائب صدر محمد شفیع نے کہا کہ متعدد قانونی اداروں کو ختم کر کے ایک ’سپر ریگولیٹر‘ بنانا نہ جمہوری ہے اور نہ ہی جوابدہ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے تعلیمی فیصلوں کا کنٹرول دہلی میں مرکوز ہو جائے گا اور ریاستوں کا کردار حاشیے پر چلا جائے گا۔

پارٹی کے مطابق اعلیٰ تعلیم صرف ’معیارات‘ کا مسئلہ نہیں بلکہ زبان، علاقائی ضروریات، سماجی تناظر اور مساوی مواقع سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں یکساں پالیسی نافذ کرنا بھارت کی تعلیمی تنوع کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایس ڈی پی آئی نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ٹیکنالوجی پر مبنی ’فیس لیس ریگولیشن‘ ماڈل پر بھی سوال اٹھائے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے لیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل اور سماعت کا عمل کمزور ہو جائے گا، جس سے دیہی علاقوں، چھوٹے تعلیمی اداروں اور محروم طبقات کے طلبہ و اساتذہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بل میں ’اعلیٰ کارکردگی‘ دکھانے والے اداروں کو زیادہ خود مختاری دینے کی شق پر بھی ایس ڈی پی آئی نے تشویش ظاہر کی۔ پارٹی کے مطابق اس سے چند منتخب اور اشرافیہ اداروں کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ سرکاری جامعات—جہاں دلت، آدیواسی، اقلیتی اور پہلی نسل کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں—مزید نگرانی اور کم وسائل کے دباؤ میں آ جائیں گی۔

طلبہ کے مفادات کے حوالے سے بھی پارٹی نے خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ گورننس کے نظام میں طلبہ کی حقیقی نمائندگی محدود ہے، جبکہ شکایت ازالہ کا نظام بھی اسی ریگولیٹری ڈھانچے کے اندر رکھا گیا ہے، جس سے مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

ایس ڈی پی آئی نے اس بل کو بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت کے اس وسیع تر ایجنڈے کا حصہ قرار دیا، جس کے تحت خود مختار اداروں اور وفاقی ڈھانچے کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے۔

پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بل کو واپس لے کر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے، ریاستوں، اساتذہ کی تنظیموں، طلبہ یونینوں اور اقلیتی اداروں سے بامعنی مشاورت کی جائے، اور موجودہ قانونی اداروں میں اصلاحات کی جائیں، نہ کہ انہیں ختم کیا جائے۔

ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ بھارت کو کسی مرکزی اور کارپوریٹ تعلیمی ماڈل کی نہیں، بلکہ ایک جمہوری، جامع اور وفاقی اعلیٰ تعلیمی نظام کی ضرورت ہے، جہاں تعلیم کو عوامی مفاد کے طور پر دیکھا جائے۔

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو