غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے حوالے سے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ پارٹی کے قومی نائب صدر محمد شفیع نے اس بل کو “آمرانہ، غیر آئینی اور شہری سماج کی خودمختاری کے لیے نقصان دہ” قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بل ۲۵ مارچ کو مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتیا نند رائے کی جانب سے ایوانِ زیریں میں پیش کیا گیا تھا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت ایک نیا باب شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے ایک نامزد اتھارٹی کو غیر ملکی چندے اور اس سے متعلقہ اثاثوں پر عارضی اور مستقل کنٹرول کے وسیع اختیارات دیے جائیں گے۔

ایس ڈی پی آئی رہنما نے الزام لگایا کہ اس بل میں ایسی دفعات شامل ہیں جن کے تحت کسی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ، ختم، زیر التوا یا تجدید نہ ہونے کی صورت میں اس کے اثاثوں پر بھی سرکاری کنٹرول قائم کیا جا سکتا ہے، چاہے وہ جزوی طور پر ہی غیر ملکی فنڈ سے بنے ہوں۔ انہوں نے اسے آئین کے دفعہ ۳۰۰ اے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مناسب قانونی تحفظ کے بغیر جائیداد کے حق کو متاثر کرتا ہے۔

محمد شفیع نے مزید کہا کہ اس بل میں کئی اہم معاملات—جیسے اثاثہ جات کا انتظام، اپیل کا طریقہ کار، تحقیقات کی منظوری اور استثنیٰ—کو انتظامیہ کے صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے پارلیمنٹ کا کردار کمزور ہوگا اور اختیارات انتظامیہ کے ہاتھوں میں مرکوز ہو جائیں گے۔

بل میں “اہم عہدیدار” کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے ٹرسٹی، ڈائریکٹر اور دیگر عہدیداران پر ذاتی ذمہ داری عائد کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا کہنا ہے کہ اس سے ملک بھر میں کام کرنے والی ہزاروں غیر سرکاری تنظیموں میں خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہوگی، جو ہر سال تقریباً بائیس ہزار کروڑ روپے کا غیر ملکی تعاون حاصل کرتی ہیں۔

شفیع نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس قانون کا سب سے زیادہ اثر اقلیتی اداروں پر پڑے گا، جو تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگرچہ اسے غیر ملکی فنڈ کے غلط استعمال کو روکنے کے نام پر جائز قرار دے رہی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں جمہوری دائرہ سکڑ سکتا ہے اور سماجی انصاف سے متعلق کام متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایس ڈی پی آئی نے متنازع دفعات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس معاملے پر تمام فریقین سے وسیع مشاورت کرنی چاہیے تاکہ جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور