سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی سکریٹری الفونس فرینکو نے آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما سے متعلق مبینہ نفرت انگیز تقاریر کی عرضیوں کو بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے گوہاٹی ہائی کورٹ کو منتقل کیے جانے کے فیصلے پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ماحول میں اس معاملے میں اعلیٰ ترین عدالت کی براہِ راست مداخلت ضروری تھی۔
فرینکو نے جاری بیان میں الزام لگایا کہ جنوری کے آخری ہفتے میں گوہاٹی اور ڈگبوئی میں کی گئی تقاریر میں وزیرِ اعلیٰ نے میاں برادری کے خلاف قابلِ اعتراض ریمارکس دیے۔ ان کے مطابق مسلم رکشہ چلانے والوں کو کم اجرت دینے کی بات، ووٹر فہرست سے مسلم نام خارج کرنے کا اشارہ، اور برادری کو بیرونی قرار دے کر ان کے حقِ رائے دہی پر سوال اٹھانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے نشر کیا گیا اور بعد ازاں حذف کیا گیا مبینہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو بھی نفرت پھیلانے کے زمرے میں آتا ہے۔ فرینکو کے مطابق اس نوعیت کے واقعات سماجی ہم آہنگی اور آئینی نظام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ایس ڈی پی آئی رہنما نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وزیرِ اعلیٰ تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ کا حلف لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی برسرِ اقتدار وزیرِ اعلیٰ پر بار بار اشتعال انگیز اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانات دینے کے الزامات عائد ہوں تو یہ آئینی ذمہ داریوں کے مطابق نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرٹیکل 32 کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے براہِ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنا غیر معمولی بات نہیں، خصوصاً جب معاملہ حساس اور فوری نوعیت کا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ کیس کو ہائی کورٹ کو بھیجنے سے عدالتی کارروائی میں تاخیر کا اندیشہ برقرار رہے گا۔
آسام میں اسمبلی انتخابات سے قبل یہ معاملہ سیاسی بحث کا اہم مرکز بن گیا ہے اور اب سب کی نظریں گوہاٹی ہائی کورٹ کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔