بہار کانگریس میں جاری اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آئے جب سینکڑوں کارکنان اور سینئر رہنماؤں نے پٹنہ میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر صداقت آشرم میں کانگریس پارٹی کو بچانے کے لیے پرامن دھرنا دیا۔ یہ احتجاج اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا جب اس میں ان رہنماؤں کے علاوہ کئی عہدیدار بھی شامل ہوئے، جنہیں پارٹی کی جانب سے “وجہ بتاؤ” نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
دھرنے کے دوران صداقت آشرم کے احاطے میں “دلالوں کو فارغ کرو”، “بہار کانگریس کو RSS-بھاجپا کے گھس پٹھیوں سے بچاؤ”، “مالی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرو” جیسے نعرے گونجتے رہے۔ اس احتجاج کی قیادت اے آئی سی سی رکن آنند مادھو، سابق وزیر افاق عالم، سابق رکن اسمبلی چترپتی یادو، گجنانند شاہی (مونا شاہی)، بُنٹی چودھری اور دیگر اہم رہنماؤں نے کی۔
دھرنے کے دوران کانگریس ہائی کمیشن پر ٹکٹ تقسیم میں بے ضابطگی، لین دین اور بھاجپا کے حمایتیوں کو ٹکٹ دینے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ آنند مادھو نے کہا کہ یہ تحریک پارٹی مخالف نہیں بلکہ “کانگریس کو ان طاقتوں سے بچانے” کے لیے ہے جو تنظیم کو RSS اور بھاجپا کے اثر میں چلانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے صوبائی قیادت پر ٹکٹ فروخت کرنے اور وفادار کارکنان کو تحقیر کا نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا۔
سابق وزیر آفاق عالم نے کہا کہ کانگریس آئین کے آرٹیکل 19، شق 5(ک) کے تحت وضاحت کے لیے دو ہفتے کی مدت مقرر کرتی ہے، مگر صرف پانچ دن میں جواب مانگ کر رہنماؤں کو اذیت دی جا رہی ہے۔ سابق رکن اسمبلی چترپتی یادو نے کہا کہ قومی صدر اور کے سی وینوگوپال سے بات چیت کے باوجود نوٹس جاری کرنا تنظیمی آداب کے خلاف ہے اور صوبائی کانگریس اے آئی سی سی ممبران کے خلاف کارروائی کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
دھرنے کے اگلے روز کانگریس رہنماؤں کے بیانات نے تنازع کو مزید شدید کر دیا۔ اس دوران سابق رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی جانب سے دھرنے دینے والے کانگریس رہنماؤں کے بارے میں کی گئی توہین آمیز ریمارکس کی سخت مذمت کی گئی۔ صحافی کے سوال پر پپو یادو نے کہا۔”ہاتھی چلے بازار، کُتا بھونکے ہزار… گدھا جتنا بھی کھڑا ہوگا، اونٹ سے نیچے ہی رہے گا۔”
یہ بیان انہوں نے صوبائی صدر راجیش رام کے ساتھ بیٹھ کر دیا، جنہوں نے خاموشی کے ساتھ اس کی حمایت کی۔
رہنماؤں نے سوال اٹھایا “جس صداقت آشرم کی کرسی پر ڈاکٹر راجندر پرساد اور مولانا مجروح حق بیٹھے، وہیں کانگریسیوں کو گالی دلوانا کس ذہنیت کی نشانی ہے؟ قصور پپو یادو کا نہیں بلکہ صوبائی صدر کا ہے جو ایسے اقدامات کرواتے ہیں۔”
رہنماؤں نے صوبائی صدر راجیش رام کو فوری برخواست کرنے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ کانگریس کے لیے اس سے برا دن نہیں ہو سکتا جب پارٹی صدر خود توہین آمیز بیان کی حمایت کریں۔
دو دن کے اندر بڑھتے واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بہار کانگریس شدید قیادت کے بحران سے گزر رہی ہے۔ دھرنے میں شریک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج جاری رہے گا جب تک پارٹی کو RSS اور بھاجپا کے حمایتی عناصر اور دلالی ثقافت سے آزاد نہیں کیا جاتا۔
اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آئندہ دنوں میں پارٹی کا مرکزی قیادت کس سمت میں مداخلت کرتی ہے اور بہار کانگریس میں یہ بحران کس طرح حل ہوتا ہے۔